تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 50 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 50

دوسرے یہ فرمایا کہ بچے مومن وہ ہیں جو آپس میں اصلاح کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔اصلاح یافتہ معاشرہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔معاشرہ سے ہر قسم کی گندگی کو دور کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔اور تیسرے یہ کہ تقویٰ کے حصول اور اصلاح کی کوشش ، ان دو اغراض کے لئے سچا مومن اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں زندگی گذارتا ہے۔اور چوتھے یہ کہ ایسا سچا مومن وہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اس کا شعار ہوتا ہے۔پھر ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ بچے مومن کی پانچویں صفت یہ ہے کہ پہلی چار باتوں کے حصول کے نتیجہ میں اس کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا دل اس کی روح اور اس کا سارا وجود خشیت اللہ سے بھر جاتا ہے۔اور چھٹی صفت سچے مومن کی یہ بتائی کہ جب ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جائیں تو وہ ان کے ایمان کو بڑھاتی ہیں۔۔۔۔سچے مومن کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل رکھنے والا اور اسی سے سب کچھ پانے والا ہے۔کامل تو کل دو باتوں کا مطالبہ کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں مومن کی آٹھویں صفت یہ بیان ہوئی يُقِيمُونَ الصَّلوة کہ وہ حقوق اللہ پورے طور پر ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔دل میں کھوٹ نہیں ہوتا ،شرک کی ملونی نہیں ہوتی ، غیر اللہ کی طرف کوئی رغبت نہیں ہوتی۔اور نویں صفت ان کی یہ ہے وَمِمَّا رَزَقْنَهُم يُنفِقُونَ کہ اللہ کی مخلوق کے سب حقوق ادا کرنے کے لئے ہر وقت وہ تیار رہتے ہیں۔حضور نے جماعت کی روحانی اور علمی ترقی کے لئے ایک عہد آفریں منصو بہ احباب کے سامنے رکھا۔یہ منصوبہ تین بنیادی شقوں پر مشتمل تھا۔پہلی شق علوم روحانی سیکھنے کے بارہ میں تھی۔حضور نے فرمایا کہ ہر احمدی بچہ قاعدہ میسر نا القرآن پڑھنے والا ہو اور ہر احمدی قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنے کی طرف متوجہ ہو اور جو تر جمہ جانتے ہوں وہ قرآن کریم کی تفسیر پڑھنے کی سعی کرے۔منصوبہ کا دوسرا حصہ دنیوی علوم سیکھنے کے بارہ میں تھا۔حضور نے ہدایت فرمائی کہ آئندہ دس سالوں میں ہمارا کوئی بچہ میٹرک سے کم تعلیم کا نہ ہو۔تیسرے حصہ میں حضور انور نے جماعت کو اسلام کے حسین اخلاق پر قائم ہو کر اپنے ماحول میں اصلاح یافتہ معاشرہ پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔چنانچہ فرمایا: ’ جب ہم ان آیات پر غور کرتے ہیں اور جب ہم سچے مومنوں کی وہ صفات اپنے سامنے رکھتے ہیں جو یہاں بیان ہوئی ہیں تو ہمارے سامنے ہمارا، جماعت احمدیہ کا اور اس کی ذیلی تنظیموں کا،