تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 39 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 39

۳۹ ٹھنڈا ہونا چاہئیے کہ جب آپ کے دل سے غیظ و غضب کے تمام تصورات نکل جائیں اور دل اس مستقل امن کی حالت میں آ جائے جس پر لَا يَحْزَنُونَ کا حکم عائد ہوتا ہے۔لَا خَوْفٌ کا حکم عائد ہوتا ہے۔یہ ایک خاص مقام ہے ان مومنین کا جو خدا تعالے کی قلبی جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔گریہ وزاری کے ساتھ نصیحت کریں پس جب آپ نصیحت کریں تو بار بار نصیحت کریں۔گریہ وزاری کے ساتھ نصیحت کریں۔نہ تھکیں نہ ماندہ ہوں۔کوئی برا کہے تب بھی نصیحت کریں۔نصیحت کرتے چلے جائیں۔چندہ نہیں دیتا تب بھی نصیحت کریں۔بُری باتیں آگے سے کرتا ہے تب بھی رحم محسوس کریں اور نصیحت کریں۔اگر آپ یہ کریں گے تو یہ اسوہ حسنہ محمد مصطفے کا ہے۔یہ شکست کے نام سے آشنا نہیں ہے۔یقیناً اور یقیناً آپ غالب آئیں گے۔یہ وہ نصیحت ہے جس کے متعلق خدا فرماتا ہے۔اِن نَفَعَتِ الذِّكْرى ہر جاہل آدمی کی نصیحت کے متعلق ہر گز یہ مقام بیان نہیں کیا گیا کہ کسی کی نصیحت بھی ضائع نہیں جاتی۔جاہلوں اور بے وقوفوں کی نصیحتیں تو بعض دفعہ نہ صرف ضائع جاتی ہیں بلکہ الٹ نتیجے پیدا کر دیا کرتی ہیں۔بغاوتیں پیدا کر دیا کرتی ہیں۔جو مخا طب ہے اس کے لحاظ سے یہاں ترجمہ ہوگا۔حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اولین مخاطب ہیں۔آپ کو خدا فرما رہا ہے۔ان نَفَعَتِ الذِّكْرُى اے محمد ؟ میں نے تجھے نصیحت کے مقام پر کھڑا کیا ہے۔تیری تمام صفات حسنہ پر غور کرنے کے بعد میں نے تجھے اختیار کیا ہے۔تو اس مقام پر فائز ہے کہ تیری نصیحت اکارت نہیں جا سکتی۔لازماً فائدہ دے گی۔پس حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت ہی تھی جس نے وہ روحانی انقلاب برپا کیا نہ کہ تلوار کی نوک نے جیسا کہ بعض لوگ بیان کرتے ہیں۔دلوں کے زنگ آپ کی نصیحت سے صاف ہوئے مگر اسلوب نصیحت یہ تھا جو میں آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں۔نماز کوسب سے اولیت دیجئے پس ان دو باتوں کو اپنا شعار بنائیے اور اس کے بعد اولین مقصد جو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھیئے وہ یہ ہے کہ عمل کے میدان میں نماز کو سب سے اولیت دیجئے۔واپس جا کر اپنے ماحول کا جائزہ لیں۔اپنے گھروں کا جائزہ لیں۔اپنی بچیوں کا ، اپنے بچوں ، اپنے چھوٹوں کا ، اپنے بڑوں کا اور نماز قائم کرنے کے لئے دن رات وقف کر دیجئے۔عبادت کے قیام ہی سے جماعت احمدیہ کا قیام ہے۔اور عبادت کے