تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 366
ذات کا ایسا غلبہ آ جاتا ہے، اس قدر وہ حاوی ہو جاتی ہے اللہ کی ذات کہ بعض دفعہ بندے اور خدا میں فرق نہیں رہتا۔پھر بندے کے اعمال کو خدا کے اعمال کا نام دیا جاتا ہے۔یہ وہ پہلا مقام تھا جس کو حاصل کرنے کے بعد پھر وہ مقام آیا یا اس کے نتیجہ میں ساتھ ہی آیا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا: إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدَ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ کہ یہ لوگ بظاہر حضرت محمد رسول اللہ کی بیعت کر رہے ہیں، یہ لوگ اللہ کی بیعت کر رہے ہیں۔پھر اس کو کھول کر بیان کرتے ہوئے فرمایا۔يَدَ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ یہ محمد مصطفے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو تم ہاتھ دیکھ رہے ہو، ان ہاتھوں کے اوپر یہ خدا کا ہاتھ ہے یعنی ایک ذرہ بھی آپ نے اپنا باقی رہنے نہ دیا تھا۔وہ ہاتھ جس کا اپنا کچھ نہ رہے، وہ خدا کا ہی ہاتھ بنے گا اور کیا ہوگا ؟۔وہ جان جو اپنی نہ رہے، جو وجود اپنا نہ رہے، دماغ اپنا نہ رہے،خون کا ذرہ ذرہ اپنا نہ رہے، ان لوگوں میں پھر خدا دوڑ نے لگ جاتا ہے۔یہ وہ مقام ہوتا ہے جس کے بعد کائنات کی ہر چیز مجبور ہو جاتی ہے سجدہ کرنے کے لئے اس وجود کو۔چارہ نہیں رہتا اس کے لئے کیونکہ اس کی نافرمانی خدا کی نافرمانی بن جاتی ہے۔سجدہ اطاعت کا ملہ کو کہا جاتا ہے۔یہی مفہوم ہے اس کا۔پس اگر جماعت احمد یہ اس مقام کو حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کو انہی رستوں پر قدم مارنا پڑے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک قلبی کیفیت کو ایک بڑے ہی پیارے شعر میں بیان کرتے ہوئے فرمایا - جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا انسان کی روح کے رستہ میں جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف قدم اُٹھاتا ہے تو متفرق مقامات آتے چلے جاتے ہیں۔ایک مقام پر جا کر وہ احساس کرتا ہے کہ یہ تو میں خدا کا اپنی طرف سے سمجھا ہوا تھا ، یہ تو میرا نکلا۔جب میں نے تجزیہ کیا نفس کا تو پتہ چلا دھوکا ہی تھا۔اصل میں تو میں اسے اپنا سمجھتا ہوں تو پھر وہ کہتا ہے کہ او ہو۔یہ چیز جو اب تک میری ہے، یہ بھی اب تک خدا کے رستہ میں پیش نہیں کی ، وہ بھی پیش کرتا ہے۔اس طرح لامتناہی منازل بظاہر آتی ہیں اس رستہ میں اور ہر مقام پر انسان کچھ نہ کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں مزید دیتا چلا جاتا ہے۔یہ ایک روحانی سفر ہے جو نفس کے تجزیہ کے ساتھ انسان کو حاصل ہوتا ہے۔رفتہ رفتہ جوں جوں وہ قدم بڑھاتا چلا جاتا ہے، اپنا کم اور خدا کا زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے۔پھر ایک اور آخری مقام ایسا آتا ہے جب عارف باللہ کمال کے مقام کو پہنچتا ہے۔اس وقت وہ جانتا ہے کہ یہ چند چیزیں جو میری جھولی میں باقی رہ گئی ہیں کیوں نہ یہ بھی میں خدا کے سپر د کر دوں، اس وقت دل کی یہ آواز