تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 356 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 356

۳۵۶ وغیرہ تو کہہ سکتے ہیں حقیقی مخر نہیں کہہ سکتے۔مجلس کے لئے جو مقاصد اور لائحہ عمل رکھے جاتے ہیں ان سے واقفیت نہ صرف عہد یداروں کے لئے ضروری ہے بلکہ تمام اراکین کے لئے بھی ضروری ہے۔انصار اللہ تک ان تمام ہدایات کا پہنچنا اور پھر یہ پروگرام کے مطابق ان پر عمل پیرا ہونے ہی سے مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔اس ضمن میں فرمایا : (۱) ہر رکن کو چاہئے کہ وہ اپنے ساتھ ایک ست اور کمزور رکن کو عبادت گزار بنائے۔اس کو بیدار کرنے میں پوری محنت صرف کرے۔(۲) چاہئے کہ اپنے پڑوس میں آباد لوگوں ، پنجابیوں اور سندھیوں کو ایک منصوبہ کے مطابق پیغام حق پہنچایا جائے۔سندھ میں اس بارے میں سستی اور جمود ہے۔یہ آپ لوگوں کے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔انفرادی اور اجتماعی وجود کی صورت میں اس طرف بھر پور توجہ کریں۔(۳) اپنی مجلس عاملہ کا ایک اجلاس صرف تبلیغی امور کے لئے منعقد کریں اور منصوبہ کے مطابق پروگرام وضع کریں۔آپ ایک نازک سرحدی علاقہ میں رہتے ہیں۔آپ کو اس طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے۔اردگرد کی تمام قسم کی آبادی میں اپنے دینی بھائی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔(۴) مساجد کو آباد کریں اور زندگی کی حرکت ہر رکن میں پیدا کرنے کی سعی کریں۔مالی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ذرا اپنا موازنہ مسیح علیہ السلام کے انصار اللہ سے کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت و رحمت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت سی تکالیف اور ابتلاؤں سے محفوظ رکھا ہے۔اس لئے اپنی قدر پہچانیں اور سلسلہ کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر اس کے لئے مالی قربانیاں دیں۔ان لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے جو اپنی آمد صحیح بتانے سے گریز کرتے ہیں یا چندہ کا مطالبہ کرنے والوں سے ترشی ، گستاخی اور نا گوارالفاظ سے پیش آتے ہیں اور چالاکیوں سے اپنی آمد کم دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، فرمایا کہ ایسے لوگوں کو خدا کا خوف کرنا چاہئے کہ ان سے جانوں کی قربانی کا مطالبہ نہیں بلکہ العفو دینے کا مطالبہ ہے۔کیا ان کو معلوم نہیں کہ یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کا دیا ہوا ہے۔ان کی فصلیں خدا اُگاتا ہے۔ان کے کاروبار میں برکت خدا دیتا ہے۔ان کے اعمال ونفوس میں برکت خدا دیتا ہے۔اُس کا فضل نہ ہو ، موسموں کی خرابی ہو،شدید بارشوں کا اثر ہو یا قحط کی وجہ سے وہ زرخیز پیداواری علاقوں کو بالکل بنجر کر دے تو اس کے آگے کس کا زور ہے؟ ایسے علاقے دنیا میں موجود ہیں جہاں سرسبزی و شادابی کی وجہ سے زندگی رواں دواں تھی۔نہریں تھیں، لہلہاتی کھیتیاں تھیں، باغات تھے، ہر قسم کی آسائشیں و آرام تھے مگر ایک وقت آیا کہ یہ سب کچھ بیابان و بنجر میں تبدیل ہو گیا۔اگر ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ چالا کی کر کے سیکرٹری مال کو دھوکہ دیتے ہیں تو درحقیقت خدا سے دھو کہ کرتے ہیں جو عالم الغیب والشہادۃ ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ وہ آنے والوں کا احترام کرتے ، ان سے اکرام سے پیش آتے جو کچھ موجود ہوتا اُسے عاجزی سے