تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 357 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 357

۳۵۷ پیش کر دیتے اور پھر کہتے کہ الحمد للہ خدا نے مجھے کچھ پیش کرنے کی توفیق دی ہے۔پھر عہد کرتے کہ دوسری دفعہ وہ خود یہاں آ کر چندہ ادا کریں گے، نہ کہ چالاکی، گستاخی اور بے ادبی سے پیش آتے۔جو معمولی قربانی سے بھی گریز کرتا ہے وہ کس قسم کا انصار اللہ ہے۔اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئیے۔اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے مال € مویشی میں برکت کے لئے دعا کی درخواست کی تھی تا وہ خدا کی راہ میں بھی دے سکے، فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی یہاں تک کہ اُس کے مویشی دو پہاڑوں کے درمیان وادی میں نہ سماتے تھے۔پھر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زکوۃ کی وصولی کے لئے کارندے پہنچے تو اُس نے حقارت سے اُن کو کہا کہ محنت تو ہم کرتے ہیں تم زکوۃ لینے دوڑ پڑتے ہو۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آئندہ اس کی زکوۃ قبول نہ کی جائے۔پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔اس کے مال مویشی اتنے زیادہ ہو گئے تھے کہ صرف زکوۃ کے مال سے وادی بھر گئی مگر ہر دفعہ اس کی زکوۃ رد کی گئی۔پس یاد رکھو یہ اموال خدا تعالیٰ کی عطا ہیں۔حق یہ ہے کہ چندہ دیتے وقت قربانی کرتے وقت بشاشت قلب ہوا اور تشکر کے جذبات سے قربانی دی جائے تاوہ قبول ہو۔یاد رکھو خدا کی ذات غنی ہے اور فقیر تو اصل میں ہم ہیں۔يَايُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَآهُ إِلَى اللهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِى الْحَمِيدُ قیامت کے دن بخل کرنے والوں کو تمثیلی طور پر سونے چاندی کے سکوں سے داغا جائے گا اور مال مویشی ان کو پاؤں تلے روندیں گے۔صحابہ کرام کا ذکر کرتے ہوئے صدر محترم نے فرمایا۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ ہمیں کوئی سواری مہیا کر دیں۔ایسی چیز جس کے اوپر کھڑے ہو کر ہم مقام جہاد تک پہنچ سکیں۔یعنی سواری ، چپلیں، جو تیاں وغیرہ۔وہ ایسا تنگی کا وقت تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب مجاہدین کو جوتیاں یا چھلیاں تک مہیا نہیں کر سکتے تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر تمہیں سوار کراؤں۔یہ جواب سن کر وہ چلے گئے اور اس غم سے اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے کہ افسوس ان کے پاس کچھ نہیں جسے خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کریں۔ان کے دلوں میں حسرت تھی کہ کاش ہمارے پاس مال ہوتا تو ہم بھی خدا کے رستے میں دیتے۔انہوں نے عاجزی و حسرت سے اس بات کی خواہش کی اور خدا تعالیٰ نے ان کا ذکر محبت بھرے الفاظ میں ہمیشہ کے لئے قرآن مجید میں محفوظ کر دیا۔آپ میں سے جو مجبور ہے یا کسی وجہ سے تنگ دست ہے، وہ انکساری سے اپنی مجبوری پیش کر سکتا ہے نہ کہ تکبر یا حقارت سے کارندوں کی تذلیل کرے یا جلی کٹی سنائیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی باتوں سے بچائے۔آپ نے مزید فرمایا کہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ