تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 351 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 351

۳۵۱ کے بعد حاضرین کی خدمت میں ماحضر پیش کیا گیا۔دوسرے دن نماز تہجد و فجر کے بعد مکرم مولوی رفیق احمد صاحب سعید مربی کو ہاٹ نے قرآن کریم ، مکرم مولوی ہادی علی صاحب مربی پشاور نے درس حدیث اور مکرم مولانا چراغ دین صاحب مربی سلسلہ پشاور نے درس کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام دیا جس کے بعد دوستوں کو آٹھ بجے تک سیر و تفریح کے لئے وقفہ دیا گیا۔چوتھا اجلاس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی صدارت میں آٹھ بج کر پینتالیس منٹ پر منعقد ہوا۔جس میں تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد مکرم مولانا چراغ دین صاحب نے ”ہماری جماعت کی ترقی خلافت کے ساتھ وابستگی اور اس کی اطاعت کے ساتھ وابستہ ہے“ کے عنوان پر پنتالیس منٹ تک تقریر فرمائی۔ساڑھے نو سے ساڑھے گیارہ تک مجلس سوال و جواب ہوئی جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، مکرم مولانا چراغ دین صاحب اور مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد نے برمل جوابات دیئے۔گیارہ سے ساڑھے بارہ بجے تک زعماء مجالس انصار اللہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مجالس کی کارگزاری کا جائزہ لے کر صدر محترم نے مناسب ہدایات عطا فرمائیں۔آخر میں صدر محترم نے اختتامی تقریر فرمایا اور مکرم عبدالسلام صاحب ناظم ضلع نے مقررین اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔جلسہ اجتماعی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔نماز ظہر و عصر کے بعد احباب کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔مجموعی تعدا د انصار و شر کا ء تین صد کے قریب تھی۔(۳۱) سالانہ تربیتی اجتماع مجلس عزیز آباد کراچی ۲۲ ۲۳ مئی ۱۹۸۰ء کو مجلس انصار اللہ عزیز آباد کراچی نے سالانہ تربیتی اجتماع منعقد کیا۔پہلا اجلاس ۲۳ مئی کو بعد نماز عصر زیر صدارت حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس منعقد ہوا۔تلاوت قرآن، عہد اور نظم کے بعد مکرم ظفر اللہ خان صاحب زعیم اعلیٰ عزیز آباد نے مجلس کی رپورٹ کارگزاری پڑھی اور آئندہ پروگرام کا خاکہ پیش کیا۔اجتماع کا افتتاح کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ صاحب نے سورۂ فاتحہ کی نہایت پُر معارف تفسیر بیان فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ اس سورۃ کا نام ام الکتاب بھی ہے اور یہ سورۃ قرآن کریم کا خلاصہ ہے۔اس نے آغاز سے لے کر اختتام تک کسی پہلو کو تشنہ نہیں رکھا۔انسان کی جسمانی اور روحانی ترقیات کے تمام مدارج پر روشنی ڈالی ہے۔آپ نے فرمایا کہ انصار اللہ کو اسی کے مطابق سال کے آغاز میں ایسے تدریجی پروگرام بنانے چاہئیں جن کا انجام عظیم اور وسیع ہو اور اپنی توفیق کے مطابق قدم بڑھائیں اور جس طرح سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کے مطابق خدا تعالیٰ سے زندگی کا راز سیکھیں اور اس پر پابندی اختیار کر کے تحمل اور صبر کے ساتھ اپنا عمل جاری رکھیں۔