تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 349
۳۴۹ دعوت الی اللہ اور تربیت کے مقدس فرائض کی ادائیگی میں صرف کریں گے۔ورزشی پروگرام میں والی بال ، سو گز کی دوڑ ، رسہ کشی ، اور کلائی پکڑنے کے مقابلے شامل تھے۔یہ مقابلے بڑے دلچسپ اور پُر لطف رہے۔ان مقابلوں کے اختتام پر اجتماع کا آخری اجلاس شروع ہوا۔جس کی صدارت حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے فرمائی۔تلاوت مکرم پر و فیسر محمد اسلم صابر صاحب نے اور نظم مکرم راجہ نذیراحمد ظفر صاحب نے پڑھی۔اس کے بعد صدر محترم کی ہدایت پر زعیم اعلیٰ ربوہ مکرم مولا نا فضل الہی صاحب انوری نے انعامات حاصل کرنے والے انصار میں انعامات تقسیم کئے۔صدر محترم کا اختتامی خطاب : آخر میں صدر مجلس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا پُر اثر خطاب شروع ہوا جو اپنی جامعیت کے تاثر اور ہمہ گیری کے لحاظ سے دلوں کو کسی طاقتور مقناطیس کی طرح کھینچنے والا تھا۔آپ نے فرمایا کہ جب بارش کے رنگ میں اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے اور وہ زیادہ دیر تک پانی کو جذب کئے رکھتی ہیں۔جس کے نتیجے میں نئے پودے ظاہر ہوتے ہیں، نئی کونپلیں نکلتی ہیں اور پھر نئے نئے پھل لگتے ہیں۔مومنوں کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔جب کوئی نیک تحریک ان میں ہوتی ہے تو وہ حسب استعداد اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔بعض کم اثر لیتے ہیں اور بعض دیر پا اثر قبول کرتے ہیں۔آج کے اس مبارک اجتماع میں جو تقریریں اور نیک باتیں آپ نے سنی ہیں ، میں توقع رکھتا ہوں کہ آپ ان سے صرف وقتی طور پر متاثر نہیں ہوں گے بلکہ ان کا مستقل اور دیر پا اثر اپنے دل و دماغ میں پیدا کریں گے۔آپ نے فریضہ اصلاح وارشاد کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خلافت کا بابرکت نظام اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے۔پھر مرکز سلسلہ میں رہنے کی وجہ سے آپ علمائے سلسلہ سے بھی زیادہ استفادہ کر سکتے ہیں۔آپ پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی زیادہ بارش ہو رہی ہے اس لئے آپ کو چاہیے کہ آپ پورے جوش لگن اور تنظیم کے ساتھ اس فریضہ کو ادا کریں۔آپ نے انصار سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے اس اجتماع کو ادا کامیاب بنانے کے لئے اپنے منتظمین کے ساتھ بہت اچھا تعاون کا نمونہ دکھایا ہے۔دراصل آپ نے اپنے منتظمین سے نہیں بلکہ خدا کے ساتھ تعاون کیا ہے کیونکہ منتظمین نے خدا تعالیٰ کے نام پر آپ کو بلایا تھا اور آپ نے ان کی آواز پر لبیک کہا ہے۔یہ جذ بہ اور روح بہت قیمتی ہے۔اگر آئندہ بھی آپ محض خدا کی خاطر اپنے منتظمین اور عہد یداران سے تعاون کریں گے تو یقیناً آپ کا قدم خدا کی طرف آگے ہی آگے بڑھتار ہے گا۔اس موقع پر صدر محترم نے ایک اہم امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ بعض انصار بھائی اپنی اصل آمدنی کی نسبت کم چندہ انصار اللہ کی مد میں ادا کرتے ہیں۔اس معاملہ میں ہم میں سے ہر ایک کو تقویٰ کی راہ اختیار