تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 324
۳۲۴ کے موضوع پر تقریر کی۔مکرم مولوی بشیر احمد صاحب شاد مربی سلسلہ نے الہی سلسلے اور ابتلاء“ کے عنوان پر مؤثر انداز میں تقریر کی۔اختتامی خطاب محترم صدر صاحب مجلس انصاراللہ مرکزیہ نے فرمایا۔آپ نے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ان کے ذمہ دو کام ہیں۔اول عبادت ، دوم تبلیغ۔عبادت کے سلسلہ میں مسجدوں کو آباد کریں۔خود با جماعت نماز ادا کریں اور دعاؤں کی عادت ڈالیں۔اپنی اولاد کی تربیت کی طرف خصوصی توجہ دیں۔ان کے لئے دعا ئیں بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو نیک ، لائق اور عبادت گزار بندے بنائے۔آپ نے فرمایا کہ جہاں آپ کو اپنے اعمال کا خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا وہاں اولاد کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔جس طرح بھیڑوں کا مالک گڈریے سے اپنی بھیڑوں کے متعلق دریافت کیا کرتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ مالک ہے۔وہ آپ سے قیامت کے دن آپ کی اولاد کے متعلق بھی پوچھے گا۔اس لئے آپ اس دن کے لئے مکمل تیاری کریں۔آپ نے مزید فرمایا کہ خدا کے بندے بنو کیونکہ جو خدا کا بندہ بن جاتا ہے خدا تعالیٰ اسے ضائع نہیں ہونے دیتا۔آپ نے مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ جنگ بدر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ سے یہی دعا بلند ہوئی تھی اے خدا تو ہی ان بندوں کو بچالے جو تیری عبادت کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا مساجد کو آباد کریں۔مساجد کی آبادی میں ہی انصار کی زندگی ہے۔سخت زمانہ پھر آنے والا ہے اس لئے دعاؤں پر زور دیں۔کیونکہ اس سخت زمانے میں وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو دعائیں کر کے خدا تعالیٰ سے محبت کا تعلق پیدا کر لیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدا ئے ذوالعجائب سے پیار نیز فرمایا: آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔صدر محترم نے فرمایا کہ دوسرا کام جو انصار اللہ کے فرائض میں سے ہے، وہ تبلیغ ہے۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ تبلیغ نبی یا خلیفہ کا ہی فرض ہے وہی یہ کام کرتا رہے۔یہ خیال احمقانہ ہے۔آپ نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کی طرح نہ بنو کہ جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کہا تھا کہ جا۔تو اور تیرا خدا دونوں لڑتے پھرو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔بلکہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے غلام بنتے ہوئے قرون اولیٰ کے مومنوں کی طرح کام کریں اور تبلیغ کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے سرانجام دیں۔تمام دنیا کے لوگوں تک ہمارا فرض ہے خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں اور سب کو اُس کی توحید کے جھنڈے تلے جمع کر دیں۔آپ نے فرمایا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۱۵ء میں فرمایا تھا کہ ہر احمدی سال میں ایک احمدی بنائے۔پس ہر ناصر یہ عہد کرے کہ وہ سال میں ایک احمدی ضرور بنائے گا اور دعا بھی کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اس عہد کو پورا کرنے کے سامان پیدا