تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 10 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 10

گزارش ہے کہ مجلس انصار اللہ کی جملہ امانتوں سے متعلق بلا تاخیر حسب ذیل اقدامات فرما کر رپورٹ کریں۔جزاکم اللہ دستور اساسی کی تعمیل میں تمام امانت داروں کو ہدایت جاری کی جائے کہ آئندہ ان امانتوں کا اجراء حسب ذیل کے دستخطوں سے ہوگا۔(۱) صدر مجلس دستخط کا نمونہ شامل ہو۔(۲) قائد مال " " " " دونوں کے مشترکہ دستخط ضروری ہوں گے البتہ اگر صدر کسی کو قائم مقام مقرر کرے یا دوران سال قائد مال کو تبدیل کرے اور نیا نمونہ دستخط بھجوائے تو اس کے مطابق تعمیل ہوگی۔اسی طرح اگر صدرا اپنے دستخطوں کی بجائے اپنے کسی قائم مقام یا نائب کے دستخط سے اجراء کروانا چاہے اور امانت داروں کو اس کی اطلاع کرے تو اس کی بھی تعمیل ہونی چاہئیے۔ب۔جملہ امانتوں کی پاس بکس جلد از جلد تیار کروا کر مجھے معائنہ کے لئے بھجوا دیں۔ج محاسب صاحب سے کہیں کہ وہ جلد از جلد جملہ حسابات کا آڈٹ کروا کر رپورٹ پیش فرمائیں۔جزاکم اللہ دفتری امور کمیٹی کا قیام ۶ جنوری ۱۹۷۹ کو حسب ذیل ممبران پر مشتمل دفتری امور کمیٹی مقرر کی گئی جس کے ذمہ دفتری عملہ کی جملہ تقرریوں اور حقوق خدمت وغیرہ نیز معطلی اور معزولی کے معاملات پر سفارشات پیش کرنا تھا۔ا۔مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب نائب صدر صدر کمیٹی ۲- مکرم قائد صاحب مال ۳ مکرم قائد صاحب عمومی ۴ مکرم نائب صدر صاحب صف دوم ماہوارر پورٹ کارگزاری کی اہمیت محترم صدر صاحب مجلس کے نزدیک رپورٹ کارگزاری کی کیا اہمیت تھی ، اس کا اندازہ اس جواب سے لگایا جاسکتا ہے۔مکرم نثار احمد صاحب جہانیاں نے اپنے خط محررہ 11 جنوری ۱۹۷۹ میں لکھا۔”ہم دو انصار ہیں۔ایک تو جہانیاں سے باہر رہتے ہیں۔اب میں اکیلا ہی رکن ہوں اور اکیلا ہی زعیم۔اس میں کارگزاری کیا لکھوں“ اس کے جواب میں صدر مجلس نے نوٹ لکھا