تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 255 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 255

صدر محترم نے افتتاح کرتے ہوئے فرمایا کہ 9 فروری کے اجلاس کے فیصلہ جات کو کماحقہ عملی جامہ نہیں پہنایا گیا اس لئے اس اجلاس کی کارروائی یا جو فیصلہ جات یہاں ہوں ، ان پر پوری طرح عمل کیا جائے۔نیکی کی باتوں کو غیر حاضر دوستوں تک پہنچا ئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اچھی باتیں جاری کی جائیں اور بُری باتیں روکی جائیں۔اس لئے اس اجلاس میں شامل ہونے والوں کا فرض ہے کہ یہاں جو باتیں بتائی جائیں ، ان کو آگے پہنچایا جائے۔اس طرح سب انصار تک یہ آواز پہنچ جائے۔سب سے بڑھ کر یہ امرضروری ہے کہ دعاؤں سے کام لیا جائے۔اس کے بعد صدر محترم کی اجازت سے مندرجہ ذیل قائدین مرکزیہ نے اپنے اپنے شعبہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور ہدایات دیں۔مکرم قائد عمومی صاحب ، مکرم نائب صدر صاحب صف دوم ،مکرم قائد صاحب مال ، مکرم قائد صاحب تعلیم ، مکرم قائد صاحب تربیت۔وقت چونکہ تھوڑا تھا اس لئے صدر محترم نے باقی قائدین کا صرف تعارف کروایا اور عمومی رنگ میں ان کے کام کی طرف توجہ دلا دی۔نیز فرمایا کہ (1) حسب قواعد ہر ضلع میں آڈیٹر مقرر ہونا چاہیئے تا کہ وہ حسابات آڈٹ کر سکیں اور اپنی ماہانہ رپورٹ مرکز میں بھجوائیں۔(۲) مرکز نے سال رواں کے لئے لائحہ عمل منظور کر کے اسے ضروری ہدایات کی شکل میں طبع کروا کر عہد یداروں کو بھجوادیا ہے۔جنہوں نے آج تک اسے نہ پڑھا ہو وہ مہربانی کر کے اب اسے پڑھیں اور اسے مسلسل زیر نظر رکھیں اور جائزہ لیتے رہیں کہ اس وقت آپ نے کون سا کام کرنا ہے۔لائحہ عمل کا مطالعہ آپ کا محاسبہ کرتا رہے گا۔(۳) ٹیم ورک (TEAM WORK) کی طرف توجہ فرمائیں۔اس طرف مجالس کی خاطر خواہ توجہ نہیں جس کے نتیجے میں کارکردگی بڑی متاثر ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی فرشتوں کا نظام مقرر کر کے ہمیں نمونہ دیا ہے۔کام نہ کرنے کی بنیادی وجہ ٹیم ورک کا نہ ہونا ہے۔تمام عہدیدارا اپنی ٹیم بنائیں۔اس سے طاقت بڑھے گی تقسیم کا ر سے بوجھ بٹ جائے گا۔تھوڑی تگ و دو سے زیادہ نتیجہ نکلے گا۔قرآن کریم نے جو پیدائش عالم کا منظر پیش کیا ہے وہ ہے۔ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ٹیم میں کئی دماغ مل کر اچھی اچھی باتیں سوچیں گے۔شروع شروع میں کافی محنت کرنی پڑے گی۔جب ٹیم مہیا ہو جائے گی تو کام آسان ہو جائے گا۔ٹیم پہلے دن ہی اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوگی۔مسلسل جد و جہد اور دعا کی ضرورت ہوگی۔یہ امر ہمیشہ مد نظر رکھا جائے کہ ان ٹیموں کو غلط رنگ نہ دیا جائے۔جماعت میں کسی تفرقہ کا موجب نہیں ہونا چاہیئے۔پارٹی بازی ہرگز نہ ہو۔لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا کریں کہ یہ خدمت کرنے والے