تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 254
۲۵۴ کر کے مجلس مرکز یہ سے اس کا حل معلوم کرتے۔اس طرح مرکز کو میدانِ عمل میں کام کرنے والے کارکنان کی مشکلات کا علم بھی ہو جاتا۔ان اجلاسات کے نتیجہ میں قائدین مرکز یہ اور دیگر عہدیداران کے باہمی افہام و تفہیم سے کام کرنے کے جذبہ کونئی جلالی۔ناظمین اور زعماء اعلیٰ صدر محترم اور قائدین کی ہدایات سے ایک نئی امنگ لے کر ربوہ سے واپس جاتے اور مجالس میں بیداری کی نئی لہر پیدا کرنے کا موجب بنتے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کا بہت گہرا اثر ہوا اور تنظیم میں تر و تازگی ، باہمتی اور عزم پیدا ہوا۔صدر محترم کی زیر نگرانی قیادت عمومی اس بات کا اہتمام کرتی کہ تمام ناظمین اور زعماء اعلیٰ ان اجلاسات میں باقاعدگی سے شامل ہوں۔جو دوست اپنی مجبوری کی وجہ سے شامل نہ ہو سکتے ،ان کا نمائندہ اجلاس میں بلایا جاتا۔اگر پھر بھی کوئی رکن اجلاس سے غیر حاضر رہتا تو اسے اجلاس کی کارروائی لکھ کر بھجوا دی جاتی۔ذیل میں بعض اجلاسات کی مختصر رو دا د بطور نمونہ وراہنمائی پیش کی جاتی ہے۔اجلاس مؤرخہ 9 فروری ۱۹۷۹ء مؤرخہ 9 فروری ۱۹۷۹ء کو ناظمین اضلاع اور زعماء اعلیٰ کا ایک اجلاس دفتر انصار اللہ مرکز یہ میں ہوا جس میں صدر محترم حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے مجالس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے درج ذیل ہدایات دیں۔(0) تمام ناظمین ضلع کی تمام مجالس کا کم از کم دو سال میں دورہ کریں اور ان کے اجلاس میں شمولیت کر کے ان کی رہنمائی کریں۔اگر کوئی ناظم اس سے زیادہ دفعہ یہ کام کرسکیں تو اللہ تعالیٰ انہیں جزا دے گا۔(ب) ہر ماہ اپنی رپورٹ باقاعدگی سے بھجوائیں اور اس امر کا پوری طرح خیال رکھیں کہ ہر مجلس مرکز میں ہر ماہ رپورٹ بھیجے خواہ کسی ماہ میں مجلس نے کوئی کام نہ بھی کیا ہو۔( ج ) تمام اراکین انصار اللہ نو جوانوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دیں۔وہ خصوصیت سے نماز با جماعت ادا کریں اور قرآن کریم ناظرہ اور باترجمہ سیکھیں۔ہر مجلس کی طرف سے اس کا انتظام ہو نیز ہر رکن چندہ با شرح ادا کرے اور چھپے ہوئے انصار کو ظاہر کیا جائے اور ان کی تربیت کی جاوے۔اجلاس مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۷۹ء مورخه ۱۳ مارچ ۱۹۷۹ ء بوقت سوا نو بجے دفتر انصار اللہ مرکزیہ میں زیر صدارت حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس ناظمین، زعمائے اعلیٰ اور ممبران مجلس عاملہ مرکز یہ کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مجالس کی بہتر کار کردگی کے لئے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم مولانا سید احمد علی شاہ صاحب نے کی۔بعد ازاں عہد دہرایا گیا۔