تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 199 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 199

۱۹۹ وَاخِرُ دَعُونَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ذکر حبیب والسلام خاکسار طالب دعا ظفر اللہ خان (۶۷) اس پیغام کے بعد ” ذکر حبیب “ “ کے موضوع پر مکرم آدم خاں صاحب امیر جماعت مردان نے جذب وعشق کے واقعات سنائے۔اجتماعی طعام میں حضور کی شرکت افتتاحی اور اختتامی خطابات کے علاوہ حضور انور از راہ شفقت اجتماع کے درمیانی روز یعنی ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۱ء کو رات کے کھانے پر بھی تشریف لائے اور جملہ انصار کے ہمراہ رات کا کھانا تناول فرمایا اور اجتماعی دعا کروائی۔کھانے کا انتظام مسجد اقصیٰ کے سامنے کھلے میدان میں شامیانے لگا کر کیا گیا تھا۔۸۶ صدر مجلس کا خصوصی خطاب اجتماع کے آخری دن حضور انور کے خطاب سے پہلے صدر مجلس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے قریباً ایک گھنٹہ تک انصار سے خطاب فرمایا۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد صدر محترم نے فرمایا: اللہ کے احسانات کا حد و شمار نہیں اللہ تعالیٰ کے احسانات کا حق تو زبان بھی ادا نہیں کر سکتی۔اعمال کا اس حق کو ادا کرنا تو اور بھی بعید بات نظر آتی ہے۔انسان اگر غور کرے تو روز مرہ کی زندگی ہی میں اس کو اللہ تعالیٰ کے اتنے احسانات نظر آئیں گے کہ ممکن ہی نہیں کہ ان کا حق ادا ہو سکے۔اور جماعتی زندگی میں جماعت احمدیہ کی زندگی میں جو بحیثیت احمدی ہمیں احسانات کا ایک لامتناہی سلسلہ بارش کی طرح برستا ہوا دکھائی دیتا ہے، ان پر تو اگر ہماری نسلیں قیامت تک شکر ادا کرتی رہیں تو اس ایک نسل کے احسانات کا شکریہ بھی ادا نہ کر سکیں جس نے اس زمانے میں وہ احسانات اللہ تعالیٰ کے، بارش کی طرح برستے ہوئے دیکھے ہیں۔جہاں تک مجلس انصار اللہ کا تعلق ہے محض اس کے فضل اور رحم اور کرم کے ساتھ یہ سال بہت ہی خوش کن گزرا ہے۔ہر میدان میں اس کے فضل کے ساتھ پہلے سے بہت ترقی عطا ہوئی۔تمام شعبوں میں ایک نئی بیداری کا احساس نظر آیا اور اس اجتماع کے موقع پر جو حاضری کا معیار تھا۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کچھ سیکھنے اور پانے کی تمنا انصار میں پہلے سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔اس کا