تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 196 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 196

۱۹۶ وقت انصار کی آمد کی صحیح تشخیص کیا کریں تو ہماری بہت سی مشکلات حل ہوسکتی ہیں اور ہماری آمد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ووٹنگ پر نمائندگان کی بھاری اکثریت نے سب کمیٹی کی سفارش کو منظور کرنے کے حق میں رائے دی۔موجودہ مہنگائی اور بجٹ کی بعض مدات: ایجنڈا کی چوتھی شق قیادت مال سے متعلق تھی جس کے الفاظ یہ تھے موجودہ مہنگائی کی وجہ سے تجویز ہے کہ (0) چندہ سالانہ اجتماع ڈیڑھ فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کر دیا جائے۔(ب) چندہ اشاعت لٹریچر ایک روپیہ سے بڑھا کر دوروپے سالانہ کر دیا جائے۔(ج) حصہ مجلس مقامی اٹھائیس فیصد سے بڑھا کر تمیں فیصد کر دیا جائے“ مجلس انصاراللہ شاہدرہ ٹاؤن لاہور کی پیش کردہ اس تجویز پر مکرم عبدالرشید غنی صاحب قائد مال مرکزیہ، مکرم راجہ نذیر احمد ظفر صاحب ربوہ مکرم چوہدری محمد الحق صاحب لاہور، مکرم منیر احمد صاحب سرگودھا، مکرم چوہدری محمد اسلم صاحب سیالکوٹ اور مکرم شیخ مبارک محمود صاحب پانی پتی لا ہور نے اپنی اپنی آراء پیش کیں۔آخر میں صدر محترم نے فرمایا میرے نزدیک اس تجویز کی متینوں شقیں رد کر دینی چاہئیں کیونکہ اصل خرابی بجٹ کی صحیح تشخیص نہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔اگر مجالس اپنے بجٹ صحیح تشخیص کریں اور پھر اس کے مطابق وصولی بھی ہو تو کسی بھی چندہ کی شرح کو بڑھانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔بعدہ جب نمائندگان سے رائے لی گئی تو بھاری اکثریت نے صدر محترم کی رائے سے اتفاق ظاہر کیا اور اس طرح یہ تجویز مستر د ہو گئی۔بجٹ انصار الله مرکز یه ۱۹۸۲ء: ایجنڈا کی آخری شق۔بجٹ آمد و خرچ مجلس انصاراللہ مرکز یہ بابت سال ۱۹۸۲ء منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔مکرم قائد صاحب مال نے بجٹ کے بعض اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔مکرم راجہ نذیر احمد صاحب ظفر ربوہ، مکرم محمد الحق صاحب لاہور، مکرم منیر احمد صاحب سرگودھا، مکرم محمد اسلم صاحب سیالکوٹ ،مکرم مبارک محمود صاحب پانی پتی لا ہور اور مکرم ملک احسان اللہ صاحب لاہور نے بحث میں حصہ لیا۔بحث کے بعد نمائندگان شوری نے متفقہ طور پر آئندہ سال کے بجٹ آمد وخرچ کو ( جو چھ لاکھ سترہ ہزار روپے پر مشتمل تھا) منظور کرنے کی سفارش کی۔پونے تین بجے بعد دو پہر شوریٰ انصار اللہ کا اجلاس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔﴿۱۶﴾ پیغام حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب پندرھویں صدی ہجری کے اس پہلے تاریخی اجتماع کے لئے صدر محترم نے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب سے بطور صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک پیغام ارسال فرمانے کی درخواست کی تھی چنانچہ آپ نے (۷ ستمبر ۱۹۸۱ء کو ایک مختصر مگر نہایت جامع اور از حد ایمان افروز پیغام ارسال