تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 185
۱۸۵ تو امت واحدہ بننے کے سامان پیدا ہوئے۔امت واحدہ بنانے کا سامان پیدا کر دیا۔وہ پیارا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب، آپ کا خادم۔بقول خود مہدی کے آپ کا نالائق مزدور جو مرضی کہہ لو۔لیکن وہ محمد کا ہے۔اور محمد سے جدا نہیں ہے۔میں نے آپ کو بتایا ہے کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس غرض سے غلبہ اسلام کے لئے آئے۔آپ نے سوچا کہ ہمارے اس عقیدہ نے ہر احمدی کے کندھوں پر کیا ذمہ داریاں ڈالی ہیں۔اپنے قول اور فعل سے دُنیا میں اسلام کو غالب کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا کرے۔“ اس کے بعد حضور کی اقتداء میں تمام حاضرین نے روح پرور آواز میں آٹھ بار لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کا ورد کیا اور پھر حضور السلام علیکم و رحمتہ اللہ کہ کر تشریف لے گئے۔(۶۱) اجلاس دوم حضور انور کے خطاب کے بعد کھیلیں ہوئیں اور پھر مغرب وعشاء کی نمازیں باجماعت ادا کی گئی۔طعام کے بعد رات ساڑھے سات بجے اجلاس دوم شروع ہوا اس اجلاس کے صدر مکرم مولا نا عبدالمالک خان صاحب رکن خصوصی مجلس مرکز یہ تھے۔صاحب صدر اور دیگر حاضرین و مقررین سٹیج کے فرش پر بیٹھے ہوئے تھے اور مقرر بھی بیٹھ کر تقریر کرتے تھے۔تلاوت قرآن کریم سے اس اجلاس کا آغاز ہوا جو کہ مکرم قاری حافظ عاشق حسین صاحب نے کی۔بعد ازاں حیدر آباد کے مکرم میر مبارک احمد صاحب تالپور نے نہایت پر اثر انداز میں سیدنا حضرت مسیح موعود کا منظوم کلام مع اسلام سے نہ بھا گوراہ ھد کی یہی ہے ترنم سے سنایا۔(۱۲ درس قرآن کریم نظم کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس نے قرآن مجید کا پُر معارف درس دیا۔درس کے آغاز میں آپ نے سورہ مائدہ کی حسب ذیل آیت قرآنی تلاوت فرمائی۔يا يُّهَا الرَّسُولُ بَلِغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكَفِرِيْنَ ) اور پھر فرمایا: "حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے پیغمبر! جو کچھ بھی تیری طرف تیرے رب کی طرف سے اُتارا گیا ہے وہ سب لوگوں تک پہنچا دے۔اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو اپنی رسالت کے مقصد کو پورا کرنے والا نہیں ہوگا۔اپنی رسالت کے مقصد میں