تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 179 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 179

۱۷۹ تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: دینِ اسلام تعلیم اور ہدایت اور ایک لائحہ عمل ہے دین اسلام ایک تعلیم بھی ہے اور ایک ہدایت بھی اور ایک لائحہ عمل انسانی زندگی کے لئے بھی ہے۔اور ایک عشق کا جذبہ اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی ہے۔ہم جو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ہمارے سامنے جماعت احمدیہ کے عقائد جنہیں ہم اسلام کی تعلیم اور ہدایت سمجھتے ہیں، وہ آتے رہنے چاہئیں۔یہ ہدایت قرآن کریم میں ہے۔اس قرآن کی تفسیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوشکلوں میں کی ہے۔ایک اپنے ارشادات میں اور ایک اپنے عمل سے۔ایک لمبا زمانہ گزرنے کے بعد بہت سی بدعات دینِ اسلام میں داخل ہو گئیں۔ایک علاقے کی بدعتیں ہیں اور ایک بین الاقوامی بدعتیں ہیں۔علاقے علاقے کی بدعتوں کے دُور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُن پیار کرنے والوں کو بھیجا جن کے متعلق کہا گیا تھا۔عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَاءِ يْلَ “ اس ارشاد نبوی کے جو آپ کا ارشاد ہے، بہت سے معانی ہیں اس میں۔ایک معنی اس کے یہ بھی ہیں جس کی طرف ہمیں توجہ دلائی گئی کہ جس طرح بنی اسرائیل کے انبیاء حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح امتِ موسویہ کی طرف بحیثیت امت موسویہ نہیں آتے تھے بلکہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ بعض دفعہ سینکڑوں ہوتے تھے۔وہ سارے کے سارے گل امتِ موسویہ کو تو مخاطب نہیں کرتے تھے۔اُن کے دائرے اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیے تھے۔وہ اپنے اپنے دائرہ میں بنی اسرائیل کی اصلاح میں کوشاں رہتے تھے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے حقیقی توحید پر قائم رہنے والے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع، اپنے اپنے دائرہ استعداد میں، کرنے والے اپنے اپنے خطہ میں اسلام کی خدمت کر رہے تھے مثلاً ہندوستان میں جو ہمارے بزرگ گزرے ہیں (اللہ تعالیٰ اُن پر بڑی رحمتیں نازل کرے۔) اُن کا مشن ساری دُنیا کی طرف نہیں تھا۔یعنی اُن میں سے کسی نے یہ کوشش نہیں کی ( اور تاریخ اس پر گواہ ہے کہ ) افریقہ میں جا کے اسلام میں جو بدعتیں پیدا ہوگئیں ، ان کو دور کریں یا یورپ میں جا کر وہ تبلیغ کریں۔دا تا صاحب رحمۃ اللہ علیہ بڑے بزرگ، مدفون ہیں لاہور میں ، انہوں نے اپنے اس علاقے کو سنبھالا اور ہزار ہا غیر مسلموں کو ان کی برکات اور فیوض سے جو اُنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی تھیں یہ توفیق ملی کہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔تو جو کیفیت انبیائے بنی اسرائیل کی تھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد وہی کیفیت تھی صلحاء امت کی مگر وہ نبی نہیں تھے لیکن اللہ کا مکالمہ مخاطبہ