تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 170
کے اجتماع ہوں گے۔آج میں ان اجتماعات کی تیاری اور اہمیت کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاعَدُّوا لَهُ عُدَّةٌ (التوبة آيت: ۴۷) قرآن کریم کی یہ بھی ایک عظمت ہے کہ وہ ایک واقعہ کی اصلاح جب کرتا ہے تو چونکہ یہ ابدی صداقتوں پر مشتمل ہے اُس کا بیان اس طرح کرتا ہے کہ واقعہ کی طرف اشارہ بھی ہو جائے اور ایک بنیادی اصول اور حقیقت بھی بیان کر دی جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُن کمزوروں کے متعلق اور منافقوں کے متعلق جو جہاد میں نہیں نکلے اور بعد میں غذر کرنے شروع کئے کہ یہ وجہ تھی اور یہ وجہ تھی، ہمارے گھر ننگے تھے، ڈکیتی کا خطرہ تھا وغیرہ وغیرہ، اس لئے ہم نہیں جاسکے ورنہ دل میں بڑی تڑپ تھی ، بڑی خواہش تھی ، ہمارے سینوں میں بھی مومنوں کے دل دھڑک رہے ہیں وغیرہ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم جھوٹ بولتے ہو، تمہارا ارادہ تمہاری نیست کبھی بھی جہاد میں شامل ہونے کی نہیں ہوئی۔اور دلیل یہاں یہ دی جاتی ہے کہ اگر اُن کا ارادہ ہوتا ، تو اس کے لئے تیاری بھی ہوتی۔جس شخص نے اُس زمانہ کے حالات کے مطابق نہ کبھی تلوار رکھی نہ نیزہ، نہ تیر کمان نہ زرہ نہ خود نہ نیزے کا فن سیکھا، نہ تلوار چلانے کی مشق کی ، نہ تیر کمان ہاتھ میں پکڑا، وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ عارضی ضرورتوں کی وجہ سے میں اس جہاد سے محروم ہو رہا ہوں ورنہ دل میں تڑپ تو بہت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دل میں اگر تڑپ ہوتی ، اگر تمہارا ارادہ اور نیت خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کی ہوتی تو اُس کے لئے تمہیں تیاری کرنی پڑتی۔خدام اور انصار اور اطفال اور ناصرات سے کہتا ہوں کہ آج کی جنگ جن ہتھیاروں سے لڑنی ہے اُن ہتھیاروں کی مشق ، مہارت اور آپ کا ہنر اور پریکٹس کمال کو پہنچی ہوئی ہو۔شکل بدلی ہوئی ہوگی۔اُس زمانے میں دفاع کے لئے اور دشمن کے منصوبہ کو نا کام بنانے کے لئے مادی اسلحہ کی بھی ضرورت تھی غیر مادی ہتھیاروں (بصائر وغیرہ) کے استعمال میں بھی ان کو مہارت حاصل تھی۔مگر ہمارے ہتھیار صرف وہ بصائر ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے بصائر سے مراد دلائل ہیں۔بصیرت کی جمع بصائر ایک تو ہے نا آنکھ کی نظر۔ایک ہے روحانی نظر جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں رُوحانی طور پر وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں دھڑک رہتے ہوتے ہیں۔ایک تو ہماری جنگ بصائر کے ساتھ ہے اور بصائر کہتے ہیں وہ دلیل جو فکری اور عقلی طور پر برتری