تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 171
121 رکھنے والی اور مخالفین کو مغلوب کرنے والی ہو۔ہمارے ہتھیار ( نمبر دو) نشان ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کا اظہار جو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو اس لئے اور اس وقت عطا کرتا ہے جب وہ محد صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ لڑ رہے ہوں۔اس کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے۔دعاؤں کے ساتھ اسے جذب کیا جا سکتا ہے۔اس کے لئے بصائر سیکھنے ، دعائیں کرنے کے جو مواقع ہیں اُن سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہے۔اس واسطے جو آنے والے ہیں ان کو آج ہی سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ، جس مقصد کے لئے بلایا جا رہا ہے، انہیں پورا کرنے کے سامان کرے۔ہمیں بلایا جا رہا ہے باتیں دین کی سننے کے لئے ، کچھ باتیں کہلوانے کے لئے ، ہم تقریریں کرتے ہیں یہاں آ کے۔خدا کرے اُس میں بصائر ہوں، آیات کا ذکر ہو، نور ہم نے پھیلانا ہے وہ ٹو رہم حاصل کرنے والے ہوں، اپنی زندگیوں میں اسے قائم کرنے والے ہوں، اپنے اعمالِ صالحہ میں اس کو ظاہر کرنے والے ہوں، ظلمات دُنیا کونُور میں بدلنے والے ہوں۔جو اجتماع ہورہے ہیں اس میں دو طرح کے نظام ہیں جن کی پوری تیاری ہونی چاہئیے۔ایک تو جو شامل ہونے والے ہیں۔خدام، اطفال، ناصرات ، لجنہ اماءاللہ اور انصار اللہ۔فرداً فرداً ان کو تیار ہونا چاہئیے۔ذہنی طور پر چوکس اور بیدار مغز لے کر یہاں آئیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی رحمت اور اُس کے ٹور اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار اور خدا تعالیٰ کے عشق سے اپنی جھولیاں بھر کر واپس جائیں۔اس کے لئے ابھی سے تیاری کریں۔استغفار کریں۔لاحول پڑھیں۔شیطان کو اپنے سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔خدا سے دعائیں مانگیں کہ ہماری زندگی کا جو مقصد ہے حاصل ہو۔ایک ہی ہے مقصد ہماری زندگی کا۔اُس کے علاوہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں اور مقصد یہ ہے کہ اس دنیا میں آج سارے انسانوں پر اسلام اپنے دلائل ، اپنے ٹور، اپنے فضل ، اپنی رحمت ، اپنے احسان کے نتیجہ میں غالب آئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے نوع انسانی جمع ہو جائے۔دوسری تیاری کرنی ہے منتظمین نے۔وہ بھی بغیر تیاری کے کچھ دے نہیں سکتے۔ایک تو وہ ہیں جو لینے والے ہیں اور معطی حقیقی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس لئے میں نے کہا اُس کا دروازہ کھٹکھٹاؤ تاکہ تمہاری جھولیاں بھر جائیں۔ایک ہیں دینے والے اور جو دینے والے ہیں اُن کو قرآن کریم نے دو تین لفظوں میں بیان کیا کہ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا مومن مومن میں فرق ہے۔ایک وہ گروہ ہے جو محض عام مومن نہیں بلکہ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا جن کے متعلق میں نے پچھلے خطبے میں بتایا تھا خدا نے یہ کہا کہ اے محمد ! وَمَنِ اتَّبَعَلكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (الانفال آیت (۶۵) کہ تیرے لئے وہ مومن کافی ہیں