تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 164
۱۶۴ کوشش کریں تو بڑی واقفیت ہو جاتی ہے۔یہ خیال غلط ہے کہ احمدی کے خلاف پاکستان میں تعصب بہت ہے۔میں تو جہاں اس قسم کا کوئی اکٹھ ہو تو وہ آنکھیں دیکھا کرتا ہوں جو غضب ناک ہوں اور جن میں خون اُتر ا ہوا ہو، تیوریاں چڑھی ہوئیں ہوں اور غصہ کے آثار ہوں چہرے پر۔مگر سارے مجمعے میں مجھے ایک بھی نہیں ملتا۔یہ ٹھیک ہے کہ غصہ بہت ہے۔ایک خاص طبقہ ہے کوئی ۱/۱۰۰۰ یا شاید اس سے بھی کم ہو گا۔ایک چھوٹا سا نقطہ سارے پاکستان کے نقشے کے اوپر ہے وہ بڑا غصہ دکھاتے ہیں۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ عارضی طور پر پاکستانی شہریوں کا بھی اس میں حصہ شامل ہو جاتا ہے جنہیں غلط باتیں کر کے غصہ دلا دیا جاتا ہے۔لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ سال میں گیارہ مہینے یہ لوگ جنہیں کبھی کبھی غصہ آتا ہے وہ بغیر غصے کے زندگی کے دن گزار رہے ہوتے ہیں۔اور چاہتے ہیں کہ آپ اُن سے بات کریں۔اُن کو بتا ئیں۔نبی اور امتی نبی میں فرق پس حقیقت کا کسی کو پتہ ہی نہیں مثلاً نبوت کا دعویٰ ہے۔مجھ سے سوال ہو گیا ۷۴ء میں۔کہ کیا آپ ( اُنہوں نے تو یہی کہا تھا ) مرزا غلام احمد صاحب کو نبی مانتے ہیں؟ میں نے کہا نہیں۔تو وہ بھی پریشان اور ابوالعطاء صاحب کہنے لگے کہ آپ نے تو ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین نکال دی۔پھر میں خاموش ہو گیا کوئی پچیس تیس سیکنڈ کے لئے۔پھر میں نے کہا ہم امتی نبی مانتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نبی کی تعریف کی ہے اور امتی نبی کی بھی تعریف کی ہے۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ نبی اُسے کہتے ہیں جو مقام نبوت کے حصول میں متبوع کا کامل تابع ہے ہی نہیں۔ہونا ضروری نہیں اُس ا۔امتی نبی اسے کہتے ہیں کہ جو اپنے نبی متبوع کے فیض کے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں کرتا۔یعنی زمین آسمان کا فرق ہے۔ان دو تعریفوں میں اس واسطے کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسا کھڑا نہیں ہو سکتا جو اپنے اس دعویٰ میں سچا ہو کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع نہیں کی پھر بھی خدا نے مجھے نبی بنا دیا۔ہو ہی نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔نبوت تو بہت بڑا مقام ہے اسے علیحدہ چھوڑو۔کوئی چھوٹی سی چھوٹی روحانی خوبی کسی میں نہیں پیدا ہو سکتی جب تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حاصل نہ کی گئی ہو۔اور یہ زمین آسمان کا فرق ہے یعنی ایک وہ ہے جسے اس مقام تک پہنچنے کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر عمل کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔بیچ میں CONSIDERATION ہی نہیں ہے اور دوسرا وہ ہے جو ایک قدم بھی اگر ہٹاتا ہے تو چھوٹے سے چھوٹا روحانی درجہ بھی اُسے نہیں مل