تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 165
۱۶۵ سکتا۔اس واسطے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔یعنی کوئی ایسا شخص جو آپ سے علیحدہ ہو کے آپ کے مقابلے میں کھڑا ہو کے کہے۔مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت نہیں اور مجھے کوئی روحانی مقام مل گیا۔آہی نہیں سکتا۔ناممکنات میں سے ہے۔لیکن امتی اگر ہو یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا ہو تو وہ صالح بھی ہوگا۔صرف اس لئے کہ اُس نے اتباع کی۔وہ شہید بھی ہوگا۔صرف اس لئے کہ اُس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اپنے دائرہ استعداد کے اندر رہ کر کی۔اور وہ صدیق بھی ہو گا صرف اس لئے کہ اُس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی۔اور نبی بھی ہو سکتا ہے اگر وہ فنانی محمد کے بلند تر مقام تک پہنچ جائے۔یعنی اُسے سب سے بڑے ارفع مقام کے حصول کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا ہونا پڑے گا۔تو یہ میں جب کہتے ہیں کہ یہ کافر ہیں تو اگر ہم نبی کے معنے میں ہی نبوت کو جاری سمجھیں تو ہم واقعی کا فر ہیں یعنی ہم آپ کہتے ہیں کہ پھر ہم کافر ہیں۔لیکن ہم وہ نبوت جاری نہیں سمجھتے۔ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا۔جس شخص نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقام کو پہچانا۔اور آپ کی رفعت کو شناخت کیا۔اور اس یقین پر قائم ہوا کہ اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يحبكم الله خدا تعالیٰ کا پیار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔اور اگر چلے گا تو وہ خدا تعالیٰ سے سب کچھ ہی پالیتا ہے۔جتنی اُس کی جھولی ہوگی اتنی وہ بھر دی جائے گی۔کیا کوئی اور نبی بھی آسکتا ہے ایک سوال یہ بھی کیا گیا اور کیا جاسکتا ہے کہ کیا کوئی اور نبی بھی آ سکتا ہے؟ تو امت محمدیہ میں، جب ہم نے یہ تعریف کر دی تو صرف وہ امتی نبی آسکتا ہے جس کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو دی ہواُس کے علاوہ نہیں آسکتا۔تو جب سوال کیا گیا تو میں نے یہ جواب دیا کہ ہمارے نزدیک امت محمدیہ میں صرف وہ نبی ہو سکتا ہے جو آپ کی کامل اتباع کرنے والا ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے آنے کی خبر دی ہو۔اور ہمارے علم کے مطابق صرف ایک کی خبر دی ہے۔اگر آپ کے علم کے مطابق اور ہوں تو مان لینا اُن کو لیکن بہر حال ہمیں تو ایک ہی کی خبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی اہمیت یعنی یہ یقینی بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کے چھوٹے سے چھوٹا روحانی درجہ بھی نہیں حاصل کیا جا سکتا۔یہ ہمیں تب پتہ لگتا ہے جب ہم قرآن کریم کے مقام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے