تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 93
۹۳ سالن بھی باقی بچ گیا اور روٹیاں بھی باقی بچ گئیں۔یہ خدا تعالیٰ کا پیار تھا۔یعنی ایک وقت میں جب دشمن TOTAL ANNIHILATION قتل کے درپے ہے۔کا پروگرام تھا۔یعنی سارا عرب اکٹھا ہو کے آیا اور مسلمان چند ہزار مدینے میں محصور۔کفار اس ارادے سے تھے کہ آج ان کو ختم کر دینا ہے۔جس طرح قیصر نے یرموک کی جنگ کے وقت یہ فیصلہ کیا تھا۔تین لاکھ کی فوج کو حکم کیا کہ جہاں مسلمان ملے قبل کرتے کرتے مدینے پہنچو۔خدا تعالیٰ کے پیار کا سلوک ۷۴ء میں خدا تعالیٰ نے اتنے پیار کا مظاہرہ کیا ہے کہ آپ اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔یعنی جہاں تکلیف ہوئی ہے وہاں خدا کا پیار ظاہر ہوا ہے۔گوجرانوالہ سے ایک حکیم نظام جان کے دو بچے اب انگلستان چلے گئے ہیں۔دو بھائی وہاں اُس وقت تھے۔اُن کا گھیراؤ ہوا۔دومنزلہ مکان۔نیچے اُنہوں نے آگ لگا دی۔ایک ہی رستہ تھا نیچے اترنے کا۔اور وہ دو منزلہ مکان کی چھت مجموعی طور پر پینتیس فٹ او پر تھی۔اور نیچے جہاں وہ چھلانگ مار سکتے تھے پینتیس فٹ سے ، وہ پکی سڑک تھی۔جب آگ زیادہ بڑھنی شروع ہوئی تو انہوں نے چھلانگ ماری۔تو اگلے دن ایک بھائی میرے پاس آ گیا۔مجھے کہنے لگے کہ ہم نے تو خدا کا عجیب نشان دیکھا کہ ہماری دولت اُس نے لے لی لیکن ہماری زندگیوں کی عجیب طرح حفاظت کی۔پھر یہ واقعہ سنایا۔کہنے لگے ہم دو بھائی کو ٹھے کی چھت پر چڑھے ہوئے۔جب آگ اُو پر آنی شروع ہوئی تو اوپر سے چھلانگ لگائی۔کہتا ہے کہ میں نے چھلانگ لگائی تو مجھے یہ یقین تھا کہ دونوں لاتوں کی ہڈیاں ضرور ٹوٹ جائیں گی۔کہنے لگا، نیچے اترا ہوں تو انگلی کی ہڈی بھی نہیں ٹوٹی۔اُسی طرح ٹھیک بالکل۔وہاں سے نکل کے ، بچ کے نکل گئے۔کہنے لگا سارا مکان جل گیا۔بچوں نے پندرہ بیس دن کے چوزے مرغی کے دل بہلانے کے لئے دس بارہ، انہوں نے رکھے ہوئے تھے وہ ایک کوٹھڑی میں تھے۔ساری کو ٹھڑی جل گئی۔اُس کا دروازہ بھی جل گیا اور وہ چوزے پچوں چوں کرتے ہوئے باہر نکل آئے ہمسائے کے گھر میں۔ہمیں تو خدا تعالیٰ نے یہ نشان دکھایا۔کسی کو کچھ دکھایا۔ہر ایک کو کہا کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں۔اور اسی وجہ سے میں نے کہا تھا کہ مسکراتے رہو۔وہ مسکراتے رہے۔شیخو پورہ اور گوجرانوالہ کے درمیان ایک گاؤں ہے تتلے عالی۔وہاں ایک خاندان تھا۔دو بھائی ،اُن کے بیوی بچے۔ڈیزل وغیرہ کا کام کرتے تھے۔اچھے کھاتے پیتے ، بڑا اثر ورسوخ۔ہمیں اطلاع یہ ملی کہ دونوں بھائیوں کو مار دیا ہے اور بیوی بچوں کو لے گئے ہیں اغوا کر کے۔میں نے ہدایت کی کہ یہ جو اغوا کرنے والا مسئلہ ہے، یہ ذرا ٹیڑھا ہے۔پتہ لیں۔وہ ہیں کہاں۔واپس لائیں گے، ہمارے بچے ہیں۔