تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 88
فہرست اے (۸) ہے۔اس کے بعد آپ فہرست بنائیں بی (B) اس میں آپ ، اب مجھے یاد نہیں کہ کیا میں نے شکل بنائی تھی بہر حال پانچ ہزار یا سات ہزار اس کے بعد اور پتے ہوں جو سیکنڈ لائن کے ہوں۔اس طرح کر کے آپ پچاس ہزار بنا ئیں۔کیونکہ اگر آپ کے پاس اڑھائی ہزار کتب لینے کے لئے ہیں تو آپ کے پاس موجود ہوں ایسے اڑھائی ہزار پتے TOP کے جن کو PREFERANCE دینی چاہیے۔ان کے ہاتھ میں کتابیں پہنچ جائیں گی۔اُن میں طالب علموں کو لیں۔بڑے بڑے مانے ہوئے اسلام پر پرلکھنے والے لیں۔وہ تو فہرست میں آجائیں گے نا پہلی فہرست کے اندر۔اب لیں۔وہ خاموش ہو گئے ہیں۔میں نے اُن کو کہا کہ اٹھاؤ بیس ہزار اسلامی اصول کی فلاسفی کا REVISED ٹرانسلیشن۔وقت تو یہ آ گیا ہے۔میں اپنی طبیعت کے لحاظ سے سمجھتا ہوں کہ جو جماعتی غلطیاں کسی وقت بھی ہوئی ہیں، جب سامنے آ جائیں تو ساری جماعت کے علم میں آنی چاہئیں۔یہ سمجھ نہیں آتی، کیسے غلطی ہو گئی کہ اسلامی اصول کی فلاسفی جیسی کتاب۔مولوی محمد علی صاحب نے جب اس کا ترجمہ کیا تو آپ حیران ہوں گے کہ اس میں سے وہ چون (۵۴) اقتباسات چھوڑ گئے ترجمہ میں جن میں سے بعض ڈیڑھ ڈیڑھ صفحے کے تھے جن کا ترجمہ ہی نہیں کیا اور اس سے زیادہ جگہ اپنی باتیں بیچ میں گھسیڑ دیں۔اور میرے خیال میں یہ ترجمہ انگریزی میں پہلی دفعہ شائع ہوا حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے زمانے میں اور ہر احمدی نے حسنِ ظنی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترجمہ ٹھیک ہو گا کسی نے چیک نہیں کیا اس کو اور وہ چلتا آیا۔وہ بہت سارے ایڈیشن شائع ہوئے۔ایک پچاس ہزار کی تعداد میں شائع ہو گیا۔یہ جو دورے میں نے کئے تو یورپ کے ایک مقام پر مجھے ایک مبلغ نے کہا کہ ہمارا نو احمدی یعنی اُس ملک کا احمدی ہوا ہوا کہتا ہے کہ اس مسئلے کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فتویٰ دیا ہے۔میں حیران کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو یہ فتویٰ نہیں دیا پھر کیوں اس سے مختلف فتوی دیا ہے۔میں نے کہا۔یہ کہاں سے اُس نے لے لیا۔کہنے لگے کہ وہ کہتا ہے کہ اسلامی اصول کی فلاسفی میں سے یہ فتویٰ مجھے ملا ہے۔اُس سے مجھے بڑا شبہ پیدا ہو گیا۔میں آیا واپس۔میں نے کہا چیک کرو۔چیک کیا تو پتہ لگا کہ چون ( ۵۴ ) جگہیں چھوڑی ہوئی ہیں اور ستر اسی (۸۰،۷۰) جگہ اپنی عبارتیں بیچ میں شامل کی ہوئی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب میں تھیں ہی نہیں۔پھر مجھے اللہ نے توفیق دی۔بڑی محنت میں نے کروائی اپنی نگرانی میں۔تین کتابیں اُردو کی ، ایسی ابتدائی لیں جن کے متعلق خیال تھا کہ وہ بہر حال بہت اچھی ہوں گی، ان میں غلطی بہت کم ہوگی۔ان میں ایک تو جس تنظیم نے یہ کانفرنس کروائی تھی انہوں نے PROCEEDINGS شائع کیں ، اس میں بھی اسلامی اصول کی فلاسفی چھپی ہوئی ہے،