تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 89
۸۹ وہ کتاب اٹھائی۔دو اردو میں بالکل ابتدائی۔ٹھیک یاد نہیں لیکن غالباً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک اردو ایڈیشن اس کا چھپا۔ایک خلافت اولیٰ میں اردو کا ایک ایڈیشن چھپایا دونوں خلافت اولی میں چھپے آگے پیچھے۔یہ تین لے کے ایک کمیٹی بٹھائی۔اُن کو کہا ، ان کا آپس میں موازنہ کرو۔موازنہ کیا تو چھوٹے چھوٹے اُن میں اختلاف تھے۔بعض دفعہ کا تب بھی اختلاف کر جاتا ہے۔الف۔ی ایک لفظ ہے۔ائے اور کتابی ہے اگر تو وہ بھی یعنی دی جو ہے وہ دو طرح سے لکھی گئی ہے نا۔ایک وقت میں ایک طرح لکھی جاتی تھی۔شروع میں وہ بڑی ”ے یوں پورے چکر کے ساتھ۔اور بولی جاتی تھی دو طرح۔تو بعد میں دو طرح جب لکھی جانے لگی تو کا تب صاحب جہاں اے لکھنا تھا وہ دوسری طرح اسے لکھ گئے۔اس قسم کی غلطی کتابت کی تھی۔بعض جگہ ہم ملنے لفظ آ گیا ہے۔وہ پتہ نہیں کس نے کیا ہے اس میں یعنی بالکل مترادف لفظ ایک کو بدل کر دوسرا لکھ دیا۔لیکن ہم نے BASE اُسی پہلے کو بنا کے ایک مستند بنا لیا۔پھر اُس کو بھیجا چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے پاس اُس کا ترجمہ کرنے کے لئے۔اُنہوں نے اس کا ترجمہ کیا۔پھر REVISE کیا۔پھر میں نے کہا میرے پاس بھیج دو۔پھر یہاں ایک آدمی کو لگایا۔اُس نے دیکھا تو اُس میں بعض جگہ چوہدری صاحب سے چار پانچ ترجمہ کے لفظ چھوٹے ہوئے تھے ، جان بوجھ کے نہیں۔پس معلوم ہوتا ہے کہ فقرے نے مضمون پورا کر دیا ہوگا تو وہ لفظی ترجمہ نہیں رہا۔میں نے اپنے جن ساتھیوں کو بلایا تھا، اُن کو کہا کہ خود نہیں ہم نے بدلنا۔چوہدری صاحب تشریف لے آتے ہیں سردیوں میں۔ان کی تصیح انہی سے کروانی ہے پھر۔پھر اُن کو دیا۔پھر وہ اُس میں سے گزرے۔یہاں کی انگریزی ہماری کمزور ہے۔چوہدری صاحب کی انگریزی بہت اچھی ہے۔ایک لفظ کے متعلق مجھے کہنے لگے، یہ لفظ غلط استعمال کر گئے ہیں چوہدری صاحب اس واسطے کہ وہ اُردو میں تو تین لفظ تھے۔تو چوہدری صاحب نے ایک لفظ استعمال کیا۔اور وہ تینوں کے معنے کا مفہوم جو تھا وہ ایک لفظ پورا ادا کر رہا تھا، اُس میں کوئی کمی نہیں تھی۔تو میں نے کہا نہیں یہ تو ٹھیک ہے ترجمہ تو بہر حال بہت محنت کر کے وہ پھر وہاں چھپوائی پچاس ہزار کی تعداد میں۔اور اُس کی پڑی ستائیس پینی (PENNY) فی جلد اور پیپر بیک۔لیکن بڑا اچھا۔بڑی ستی ہے۔وہاں کے ملک کے لحاظ سے تو بہت ہی سستی ہے۔کتابیں تقسیم کرنے کا وقت آ گیا میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں۔یہ کتابیں تقسیم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔وہاں میں نے امریکہ کو کہا کہ پچاس ہزار میں سے ہیں ہزار اٹھاؤ۔میر محمود صاحب ویسے اُن کا دماغ بڑا تیز ہے۔انہوں نے سوچا