تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 82 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 82

۸۲ انتظام تھا۔زنانہ پولیس کھڑی تھی اور مردانہ پولیس بھی۔اور وہاں تو ایک آواز بھی بلند نہ ہوئی۔میں حیران کہ یہ کہتے کچھ تھے، یہ کیا بن گیا۔اور اُن سے جنگلہ، اپنی طرف سے شاید پولیس نے یہ کیا ہو گا۔یہ ڈرے جو ہوئے تھے۔انہوں نے انتظام کیا تھا کہ جنگلے سے پرے کھڑے ہو کے آپ کو احمدی دیکھیں گے۔آپ ان سے دو چار منٹ باتیں کر لیں۔میں نے اُن کو کہا کہ یہ مجھ سے نہیں ہوتا۔یہ میری باتیں سننے کی بجائے مصافحہ کرنے کو زیادہ پسند کریں گے۔اس واسطے ہاتھ میں نے دروازے پہ ڈال کے وہ دروازہ کھول دیا۔میں نے کہا آجاؤ ادھر سارے۔جب وہاں سے فارغ ہو کے جانے لگے۔میں موٹر میں بیٹھا تو اچانک دیکھا کہ پولیس نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو روکا ہوا تھا کہ آپ آگے نہیں جا سکتے۔بعد میں ، میں نے اپنے مبلغ سے پوچھا کہ یہ بات کیا ہوئی کہ آپ تو کچھ اور کہتے تھے۔کہنے لگے کہ آپ نے جو کہ دیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ اگر تمہاری ساری کوششیں ناکام ہو جائیں گی تو میں خود انتظام کروں گا۔لیکن ہم سے رہا نہیں گیا۔ہم آپ کے آنے سے ایک روز پہلے ایک دفعہ پھر ملنے چلے گئے اور وہ اس طرح بڑی شان بنا کر سر ہلا رہا تھا۔کہتے ہیں اسی اثناء میں اُس کا پی اے (P۔A) آیا۔باور دی اور سنہری بٹن لگائے ہوئے اور چاندی کی کشتی میں ایک تار اُس کے سامنے رکھا۔اُس نے وہ تارا ٹھائی ، پڑھی۔اس کا منہ چقندر کی طرح سرخ ہوا۔اٹھا۔کہنے لگا میں ابھی آتا ہوں۔چلا گیا وہاں سے۔پھر واپس نہیں آیا۔اور اپنے اسٹنٹ کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ سب انتظام ہو جائیں گے۔آپ کوئی فکر نہ کریں۔بے فکر رہیں۔اور کچھ پتہ نہیں کہ وہ تار کہاں سے آئی، کس نے بھیجی۔عین اُس وقت جب وہ وفد بیٹھا ہوا ہے، تار کا پہنچ جانا خدا کی ہی شان ہے۔زمانہ نشان مانگتا ہے تو بتا میں یہ رہا ہوں کہ یہ زمانہ اُسی طرح نشان مانگتا ہے۔نشان زمانہ کے مزاج کے مطابق خدا دے گا۔دلائل زمانے کی ضرورت کے مطابق خدا نے دے دیئے۔کچھ تفصیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں اور کچھ پیج کے طور پر۔ایک دفعہ میں حضرت مسیح موعود کی ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔اُس میں ایک سطر سے بھی کچھ تھوڑا چھوٹا فقرہ تھا جو ایک سطر میں نہیں آیا تھا۔میری آنکھ نے اُس کو پکڑا اور میرے دماغ میں روشنی خدا تعالیٰ نے پیدا کی اور چار یا پانچ خطبے میں نے اُس ایک فقرے کے اوپر دیئے۔اتنا مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں بھرا ہوا ہے۔دنیا کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس کے سلجھانے کے لئے قرآن کریم میں تعلیم نہیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعلق قرآن کریم ہی میں بظاہر متضاد باتیں بیان کر دی ہیں۔مثلاً ایک یہ کہا کہ یہ کتاب مبین ہے۔ہر چیز کھلی کھلی ہے اس