ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 6
ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين اردو تر جمه واجتلينا ما استعمل من جور اور بصیرت کی نگاہ سے ) اس ظلم وستم ، بہتان تراشی ( و اعتساف وقذف و شتم اور کمینوں کی طرح فحش گوئی کو دیکھا جو اس نے كاجلاف۔عـلـمـنـا انه نطق بها روا رکھی تھی تو ہم نے جان لیا کہ اس نے عمداً معتمدًا لاغضاب المسلمین مسلمانوں کو غصہ دلانے کے لئے یہ باتیں کی ہیں و ماتفوه علی وجه الجد اور اس نے رشد و ہدایت کے طالب محققین کی كالمسترشدين المحققين طرح تحقیق کر کے یہ بات نہیں کی۔بلکہ اس نے بل تكلم في شان سيد الانام سید الانام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں فتیح ترین باقبح الكلام كما هو عادة كلمات کہے ہیں جیسا کہ یہ سفلہ طبع اور کمینوں کی الاجلاف و اللئام ليوذی قلوب عادت ہوتی ہے تاکہ وہ مسلمانوں کے دلوں اور المسلمين و طوائف اهل اہل اسلام کے فرقوں کو ایذاء پہنچائے اور الاسلام۔ويُغلى قلوب امة خير خير المرسلين صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے دلوں کو المرسلين۔فظهر كما اراد هذا جوش دلائے پس جیسا کہ اس فتنہ پرداز نے ارادہ الفتان و تالّم بكلمه كل من فی کیا وہی ہو گیا اور اُس کے اِن کلمات کی وجہ سے قلبه الایمان و اصاب ہر اُس شخص نے تکلیف محسوس کی جس کے دل میں المسلمين بقذفه جراحة مؤلمة۔ایمان ہے اور اس کے اس بدگوئی کی وجہ سے وقرحة غير ملتئمة۔وظنوا مسلمانوں کو انتہائی تکلیف دہ زخم اور ایسا نا سور لگا جو انهم من المجرمين۔ان لم کہ مندمل ہونے والا نہیں ہے اور انہوں نے گمان ينتقموا كالمؤمنين المخلصین کیا کہ اگر انہوں نے خالص مومنین کی طرح انتقام و ذكروا بها ايام الاولین نہ لیا تو ضرور وہ مجرموں میں سے ہوں گے۔اس ولو لا منعهم ادب السلطنة سے انہوں نے اپنے اسلاف کے زمانے کو یاد کیا المحسنة۔وتذكر عنایات اور اگر انہیں محسن سلطنت کا ادب مانع نہ ہوتا اور الدولة البرطانية۔لعملوا عملا برطانوی حکومت کے احسانات یاد نہ آتے تو ۳۸۰