ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 5
ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين اردو تر جمه طريق السب و الافتراء فتنه باز مفسدوں کی طرح دشنام دہی اور كالمفسدين الفتـانين۔انـه افترا پردازی کا ہر طریق اختیار کیا ہے۔یہ امرء استعمل السفاهة في ايا شخص ہے جس نے اپنے خطاب خطابه۔وأبدى عذرة كانت (کتاب ) میں بے حیائی سے کام لیا ہے اور في وطابه واظهر کانه اس نے وہ پلیدی ظاہر کی جو اس کے اندر اتم الحجة في كتابه و ختم تھی اور اس نے ایسے ظاہر کیا کہ گویا اس المباحث بفصل خطابه و لَيْسَ نے اپنی کتاب میں اتمام حجت کر دی اور فی کتابه من غير السب اپنے فیصلہ کن کلام سے بحث کو ختم کر دیا ہے و الشتم و کلمات لا یلیق حالانکہ اس کی کتاب میں سب وشتم کے سوا لاهل الحياء والحزم۔بيد انه کچھ بھی نہیں اور ایسے کلمات ہیں جو حیا دار ابدع بارسال كتبه من اور عقلمند شخص کو زیب نہیں دیتے۔اس نے غير طلب الى المسلمین اپنی کتابوں کو بغیر کسی طلب کے قوم کے الغيورين من اعزة القوم معززین اور چنیدہ مومنین میں سے غیور ۵ و نخب المؤمنين۔وتلک مسلمانوں کو بھیجا۔اور یہی وہ آگ ہے جس هي النار التي التهبت في ضرم نے دردمندوں کی آتش کو اور بھڑ کا یا ہے المتألمين و احرقت قلوب اور مسلمان مومنوں کے دلوں کو جلایا ہے۔المؤمنين المسلمين۔فلما پس جب ہم نے اس کتاب کو دیکھا اور اس رَأَيْنَا هذا الكتاب و عثرنا کی بیہودہ گوئیوں اور دشنام دہی اور عیب تراشی على غلوائه و ماست و ذاب پر اطلاع پائی اور اس کے تکلیف دہ کلمات قرئنا كلمه الموذية۔و آنسنا پڑھے اور ہم اُس کی غصہ دلانے والی گندی قذفاته المغضبة و شاهدنا گالیوں سے آگاہ ہوئے اور ہم نے اس ضيمه الصريح۔و قوله القبیح کے صریح ظلم اور فتیح کلام کا مشاہدہ کیا