ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 36

ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 30

ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين اردو تر جمه ــامـــت الـقـيـامة منها في سے مسلمانوں میں قیامت برپا ہوگئی ہے اور ہر المسلمين۔وكل من رأی ایک جس نے یہ رسالہ دیکھا اس نے اس کے هذه الرسالة فلعن مؤلّفه مؤلف پر لعنت بھیجی کیونکہ اس نے اس رسالے بما جمع السب و الضلالة میں سب و شتم اور گمراہی جمع کر دی ہے۔اور اس وهو زايـل الـوطـن والـمـقـام۔نے وطن اور جگہ کو چھوڑا تا کہ حکام سے امن میں لكي يامن الحكام۔فاختار رہے اور اس نے راہِ فرار اختیار کی تاکہ اسے المفر۔لئلا يسحب ويُجر مقدمات میں ) گھسیٹا اور کھینچا نہ جائے اب تو وبقى منه عذرة كلماته اس سے محض اس کے کلمات کی پلیدی، باتوں کی ونتن ملفوظاته۔وأغلوطة بدبُو اعتراضات کے مغالطے باقی رہ گئے ہیں۔اعتراضاته۔فنترک قذفه پس ہم اس کی بہتان تراشی ، اس کی بدگوئی اور وبذاءه و نجاسة كلماته۔کلمات کی نجاست کو چھوڑتے ہیں اور ہم اسے ونفوّضه الى الله ويوم اللہ تعالیٰ اور یوم مکافات کے سپر د کرتے ہیں۔مكافاته۔و اما ما افترى من پس جو افتراء اس نے ایسے شبہات کے نتیجے میں شبهاته التي تولدت من حمقه کیا ہے جو اس کی حماقت اور کج خیالی کی وجہ سے و زیغ خیالاته فذالک امر پیدا ہوئے ہیں۔وہ ایسا امر ہے کہ اس کا ہر وجب ازالته بجميع جهاته۔جہت سے ازالہ ضروری ہے اور حق ایسی چیز ہے و ان الحق شيء لا يمكن احدا کہ کسی کے لئے اس سے آگے بڑھنا یا پیچھے رہنا التقدم عنه ولا التأخر۔ثم غيرة ممكن نہیں پھر اسلام کی غیرت ہر حیا دار اور تذبر الاسلام فرض مؤكد لمن كان کرنے والے پر فرض عین ہے کیونکہ یقیناً له الحياء والتدبّر۔فان المؤلّف مؤلف نے جسارت کی ، دین اسلام کی بے حرمتی اجترء و هتک حرم الدین کی ، اور اس نے حملہ کیا اور مقابلہ کے لئے وصال و بارز فبارزوا کاسد من سامنے آیا۔پس تم بھی شیر کی طرح مقابلہ کے ۴۰۴