ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 22
ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين ۲۲ اردو تر جمه سلک الرفاق۔و فزنا بمرامنا لڑی میں پروئے گئے اور ہم نا کامی کے بعد اپنے بعد خفوق راية الاخفاق۔وقد مقاصد میں کامیاب ہو گئے اور جب ہم خالصہ کے كنا في عهد الخالصة۔اخرجنا دور میں تھے تو ہمیں ہمارے گھروں سے بے دخل من ديارنا و لفظنا الى مفاوز کیا گیا اور ہمیں بے وطنی کے جنگلات میں پھینک الغربة۔وبلينا باعواز المنية۔دیا گیا اور خواہشات کی تکمیل نہ ہونے سے ہم فلما من الله علينا بمجئ آزمائے گئے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے حکومت الدولة البرطانية۔فكأنا برطانیہ کو لا کر ہم پر احسان کیا تو گویا ہم نے ان وجدنا ما فقدنا من الخزائن ایمانی خزانوں کو پالیا جن کو ہم نے کھو دیا تھا۔پس الايمانية۔فصار نزولها لنا نزل اس (حکومت) کا نزول ہمارے لئے عزت اور العز والبركة۔و مغناه سبب برکت کے نزول کا باعث اور اس کا (خالصہ الفوز والغنية۔ورأينا بها حبورًا حکومت کی ) جگہ لینا کامیابی اور خوشحالی کا سبب وفرحة۔بعد ما لبثنا على بنا۔اور ہم نے ایک عرصہ مصائب میں رہنے کے المصائب برهةً و رُفعنا من بعد اِس حکومت سے خوشی اور فرحت دیکھی اور ذل اخريات الناس الى مراتب ہمیں ذلیل کم درجہ لوگوں سے بلند کر کے ایسے رجال هم للقوم كالرأس۔بندوں کے مراتب تک پہنچا دیا جو قوم کے لئے ونجينا من قطوب الخطوب۔سرکی مانند ہیں اور ہمیں شدت حوادث و حروب الكروب۔وكنا نمد اور مصائب کی جنگوں سے نجات دی گئی۔اور ہم الابصار الی ذالک الوقت اپنی آنکھیں اس مبارک وقت کے لئے فرشِ راہ السعيد۔كما تمد الاعین کئے ہوئے تھے جیسا کہ آنکھیں عید کے چاند لهلال العيد۔وكنا نبسط يد کے لئے بچھائی جاتی ہیں اور ہم اس حکومت کے الدعاء لهذه الدولة۔بما اصابتنا لئے دست دعا دراز کرتے تھے بوجہ ان مصائب في زمن الخالصة۔مصائب کے جو ہمیں سکھوں کے زمانے میں پہنچے ۳۹۶