ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 21
ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين ۲۱ اردو تر جمه استحالت الحال۔وغار المنبع و اور اہل وعیال نے گریہ وزاری کی تو اسی حکومت کے اعول العيال۔ونجينا بها من طفیل ہی ہمارے اموال ہمیں لوٹائے گئے اور ہمیں۔الدهر الموقع والفقر المدقع اس حکومت کے ذریعے ہولناک زمانے اور خاک وكنا من قبل شججنا فلا میں ملا دینے والے فقر سے نجات دی گئی اور اس سے الكروب من الشجى وطوينا پہلے ہم غموں کے بیابان میں سے غم کی حالت میں اوراق الراحة من ايدى الطوى۔گزرتے تھے اور بھوک کے ہاتھوں ہم نے راحت کی و ما كانت تعرف اقدامنا الا بساط لپیٹ دی اور ہمارے پاؤں محض زخموں سے آشنا الوجی۔و ما صدورنا الا تھے اور ہمارے سینوں میں محض سوزشِ غم تھی اور ہم پر الجوى۔ومرّ علینا لیالی ما کان کئی راتیں ایسی گزریں کہ ہمارا بستر سوائے نشیب فراشنا فيها الا الوهاد۔ولا کے کچھ نہ تھا اور ہمارے چلنے کی جگہ کانٹوں کے سوا موطأنا الا القتاد۔فكنا کچھ نہ تھی پس ہم اس حکومت کے ذکر سے ان عموں کو نجلو الهموم باذكار هذه الدولة۔دُور کرتے تھے اور اس عادل حکومت کی خوشخبری کے و نجتلی زمننا طلق الوجه۔ساتھ ہم اپنے زمانے کوخوش رود یکھتے تھے۔یہاں بابشار تلك المعدلة۔حتى تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری مرادیں پوری کیں اور ۱۲ اسعف الله بمرادنا۔وجاء بهذه ہماری خوش بختی کے لئے اس حکومت کو لایا پس ہم الدولة لاسـعادنا فوصلنا بها اس (حکومت) کے ذریعے ایسی بشارت تک پہنچے بشارة تنشى لنا كل يوم نزهة | جوروز ہمارے لئے شگفتگی کو پروان چڑھاتی ہے اور و تدرء عن قلوبنا كربة۔الى ہمارے دلوں سے بے قراری کو دور کرتی ہے ان خُلَّصْنا من الخوف یہاں تک کہ ہم خوف اور مفلسی سے نجات پا والاملاق۔ونقلنا من عدم العراق گئے اور ہمیں تہی دستی سے آسودہ حالی کی طرف الى الارفاق۔وجاء نـا النعم من منتقل کیا گیا اور ہمارے پاس اطراف واکناف الأفاق۔ونظم الاجانب فی سے نعمتیں آئیں اور اجنبی لوگ دوستوں کی ۳۹۵