ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 10
ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين اردو تر جمه اور حكامها العادلين و وجدنا حكام ( کے طفیل ) بہت سی تر و تازگی بهم كثيرا من غض و سرور خوشی اور آسودگی اور شادمانی پائی ہے اور وخفض وحبور و مامسنا ہمیں ان سے دین کے معاملے میں کسی قسم منهم شظف فی الدین کی تنگی نہیں پہنچی اور نہ ہی ظالم بادشاہوں کا ولا جنف كالظالمين من سا ظلم بلکہ انہوں نے ہمیں قول وفعل میں السلاطين۔بل اعطونا حرّيةً آزادی دی ہے اور انہوں نے ہمیں اپنی فعلا و قولا و ارضونا حفاوة مہربانیوں اور احسان سے راضی کیا ہے وطولا۔وما رأينا سوءًا اور ہم نے اس حکومت سے کوئی برائی نہیں من هذه الدولة۔ولا قشفا دیکھی اور نہ ہی سکھوں کے وقت کی طرح كايام الخالصة۔بل ربينا کی تختی بلکہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا اور تحت ظلها مذ میطت عنا جوان ہوئے ہم نے اس کے زیر سایہ التمائم۔و نیطت بنا العمائم۔پرورش پائی اور ہم اس کی پناہ میں امن سے و عشـنـا بكنفها آمنين۔و جعلها رہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے لئے ایسے الله لنا كعين نستسقيها۔چشمہ کی طرح بنایا جس سے ہم سیراب ہوتے و کعین نجتلى بها۔فنحاذر ہیں اور ایسی آنکھ کی طرح جس کے ذریعے ان يفرط الى هذه الدولة ہم دیکھتے ہیں پس ہم اس بات سے بچتے ہیں بعض الشبهات۔وتحسبنا کہ اس حکومت کو ( ہمارے متعلق ) شبہات من قوم يضمرون الفساد فی پہنچیں اور وہ ہمیں ایسی قوم میں سے خیال النيات۔فلذالک ما رضينا کرے جن کی نیتوں میں فساد چھپا ہوتا ہے | بان نترافع لتعذيب هذا۔پس اس وجہ سے ہم اس بہتان تراش شریر کو القذاف الشرير و اعرضنا سزا دلوانے کے لئے مقدمہ بازی پر تیار نہیں عن مثل هذه التدابير۔ہوئے اور ہم نے ایسی تدابیر سے اعراض کیا ۳۸۴