ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 36

ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 11

ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين " اردو تر جمه وحسبنا انه عمل لا ترضاه اور خیال کیا کہ یہ عمل ایسا ہے جسے حکومت الدولة۔و لا تستجاده تلک پسند نہ کرے گی اور نہ ہی یہ سلطنت اسے اچھا السلطنة۔فكففنا كالمعرضين جانے گی پس ہم اعراض کرنے والوں کی و سمعت ان بعض المستعجلين طرح رُک گئے اور میں نے سنا ہے کہ من المسلمين۔ارسلوا رسائل مسلمانوں میں سے بعض جلد بازوں نے الى الدولة مستغيثين۔وتمنوا فریاد کرتے ہوئے حکومت کو خطوط بھی بھیجے۔ان يوخذ المؤلف كالمجرمین اور انہوں نے خواہش کی ہے کہ اس مؤلف کو و ان هي الا امانی کامانی مجرموں کی مانند پکڑا جائے اور یہ صرف دیوانوں المجانين۔و اما نحن فما نری کی خواہشات جیسی خواہشات ہیں اور جہاں تک في هذا التدبير عاقبة الخير۔ہمارا تعلق ہے تو ہم اس تدبیر کا انجام بخیر نہیں ولا تفصيًا من الضير۔بل هو دیکھتے اور نہ ہی اسے نقصان سے خالی تصور کرتے 9 فعل لا نتيجة له من غير شماتة ہیں بلکہ یہ ایسا فعل ہے جس کا نتیجہ شماتت اعداء الاعداء۔ولا يُستکفی به کے سوا کچھ نہیں اور نہ ہی اس سے وہ فتنے رک سکتے الافتتان بمكائد اهل الافتراء ہیں جو مفتریوں کی مکارانہ چالوں سے ظہور پذیر ولو سلكنا سبيل الاستغاثة ہوئے اور اگر ہم مقدمہ بازی کے طریق کو اختیار و نترافع لاخذ مؤلف هذہ کریں اور اس رسالہ کے مؤلف کی پکڑ کے لئے الرسالة۔لتعزى الى فضوح نالش کرائیں تو جواب نہ دے سکنے کی ذلت الحصر۔و نرهق بمعتبة عند ہماری طرف منسوب کی جائے گی اور ہم اہل زمانہ اهل العصر۔ويقال فينا اقوال کے عتاب کا مورد ہوں گے اور ہمارے بارے بغوائل الزخرفة۔ويقطع میں گمراہ کن جھوٹی باتیں کی جائیں گی اور زبان کی عرضنابـحـصائد الالسنة۔کاٹ سے ہماری عزت پر چھر کے لگائے جائیں ويقول السفهاء انهم عجزوا گے اور بیوقوف کہیں گے کہ یہ لوگ جواب ۳۸۵