ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 7
ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين اردو تر جمه كالمجانين۔ولا شك ان هذا ضرور وہ جنونی لوگوں کی طرح عمل کرتے۔اور 1 الـسـفـيـه اعتدى في كلماته۔و کوئی شک نہیں کہ اس بے حیا نے اپنے کلمات اغرى العامة بجهلاته۔و جاوز میں حد سے تجاوز کیا اور اپنی جاہلانہ باتوں سے الحد كالغالين۔فلاجل ذالك عامۃ المسلمین کو اکسایا اور غلو کرنے والوں کی قد هاجت الضوضاة و ارتفعت طرح حد سے تجاوز کیا پس اسی وجہ سے شور بر پا الاصوات۔وتضاغي الناس برنّة ہوا اور آوازیں بلند ہوئیں اور لوگوں نے نوحہ النياحة۔واشتعل الطبائع من کرنے والوں کی آواز کی طرح گریہ وزاری هذه الوقاحة۔ومُلا الجرائد کی اور اس بے حیائی کی وجہ سے طبیعتیں مشتعل بتلك الاذكار۔وقام كل احد ہو گئیں اور ان کے تذکرہ سے اخبار بھر گئے اور ككُماة المضمار بما آذى ہر کوئی مرد میدان حد سے بڑھنے والوں کی ایذاء کے سبب اُٹھ کھڑا ہوا۔كالمعتدين۔والحاصل انه افترای و تجرّم۔حاصل کلام یہ ہے کہ اس نے افترا کیا اور معصوم پر و اراد ان يستأصل الحق تہمت لگائی اور ارادہ کیا کہ حق کو جڑ سے اکھیڑ دے و يتصرم۔و اسبل غطاء ا اور کاٹ دے اور اُس نے لوگوں کی مغالطہ دہی کے غليظا لاغلاط الناس و اراد لئے بھاری پردہ ڈال دیا اور اس نے ارادہ کیا کہ أن يُطفئ انوار النبراس چراغ کے انوار کو بجھا دے پس مسلمان غضبناک فنهض المسلمون مستشیطین ہو کر مشتعل ہوتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔اور مشتـعـلـين۔وصاروا طرائق قددا انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے ، غصہ کی حالت زاعقين مغتاظين۔فذهب میں متفرق طریق اختیار کر لئے۔پس ان میں سے بعضهم الى ان يُبلغ الامر الى بعض کی رائے یہ تھی کہ اس معاملہ کو حکام تک پہنچایا الحكام ويترافع لغرض جائے اور انتقام کی غرض سے مقدمہ کیا جائے اور الانتقام۔والآخرون مالوا کچھ دوسرے ان اوہام کے رد کی طرف مائل ہوئے ۳۸۱