ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 36

ترغیب المؤمنین فی اعلاء کلمة الدین — Page 8

ترغيب المؤمنين في اعلاء كلمة الدين اردو تر جمه سے الى الردّ على تلك الاوهام۔اور اس رڈ لکھنے کو فرائض اسلام میں۔و حسبوه من واجبات الاسلام خیال کیا پس وہ لوگ جنہوں نے حکام تک فالذين اختاروا الترافع عرضوا بات کو پہنچا نا پسند کیا انہوں نے اپنی شکایت شكواهم على حضرة نائب کو جناب وائسرائے تک پہنچایا اور انہوں الدولة وارسلوا ما كتبوا نے اس معاملہ میں جو میموریل لکھا تھا وہ لهذه الخطة۔و الفريق الثاني بھیج دیا۔دوسرے گروہ نے کتاب کے رڈ توجهوا الى ردّ الکتاب کی طرف توجہ کی اور دیگر لوگ غم واندوہ والآخرون وجموا من الاكتياب سے گم سم ہو گئے۔اور اسی طرح انہوں نے و کذالک اختلفوا فی الاعمال اپنے اعمال اور آراء میں اختلاف کیا اور ہر ایک و الأراء۔و استخلص كل احد ما نے اپنی عقل کے مطابق جو مناسب سمجھا اسے هدى اليه من الدهاء۔فالذی اختیار کیا۔پس جس کی ضرورت کو میں نے محسوس أشرب حسّی و تلقفه حدسی۔کیا اور جسے میری فراست نے مناسب پایا وہ یہ ان الاصوب طريق الردّ و الذب ہے کہ سب سے درست بات یقینا رڈ لکھنے اور لا الاستغاثة ولا السب بالسب دفاع کرنے کا طریق ہے نہ کہ مقدمہ بازی اور وانی اعلم بلبال المسلمين گالیوں کے مقابل گالیاں دینا۔اور میں وما عرى قلوب المؤمنين من مسلمانوں کے غم کی شدت اور جو مومنوں کے دلوں السن الموذين ولکنی اری کو موذیوں کی زبانوں سے تکلیف پہنچی ہے اسے الخير فى ان نجتنب اچھی طرح جانتا ہوں۔لیکن میں خیر اسی بات میں المحاكمات۔ولا نوقع انفسنا دیکھتا ہوں کہ ہم مقدمہ بازی سے اجتناب کریں في المخاصمات۔و نتحامی اور ہم اپنے نفسوں کو لڑائی جھگڑے میں نہ ڈالیں اموالنا من غرامات التنازعات اور اپنے اموال تنازعات کے جرمانوں اور اپنی و اعراضنا من القيام امام القضاة عزتیں قاضیوں کے سامنے کھڑے ہونے سے ۳۸۲