تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 62
29 62 ”ہماری پھوپھی امته الرحمن صاحبہ مرحومہ اُن خوش بخت صحابیات میں سے تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے میچ پاک علیہ السلام کی ایک لمبے عرصے کے لئے خدمت کا شرف بخشا تھا۔ہماری پھوپھی امۃ الرحمن صاحبہ مرحومہ کو دار مسیح میں رہائش اور خدمت کا شرف ملا۔قریباً ۸ سال تک حضور علیہ السلام کے اندرون خانہ سب کام کاج ان کے سپر در ہے۔ہمارے دادا صاحب مرحوم جب ۱۹۰۴ء میں فوت ہو گئے تو کچھ عرصہ بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المؤمنین متعنا اللہ بطول حیا تہا نے خود ہماری پھوپھی صاحبہ مرحومہ کی شادی منشی مہتاب علی صاحب مرحوم سے کر دی اور اپنے عزیزوں کی طرح رخصت فرمایا یہ منشی صاحب مرحوم وہی ہیں جنہوں نے فیض اللہ خان پسر قاضی ظفر الدین صاحب پروفیسر عربی سے مباہلہ کیا تھا اور فیض اللہ خان کی طاعون سے موت صداقت کا نشان بنی تھی۔۔۔اور یہ نشان حقیقتہ الوحی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے درج فرمایا ہے )۔۔۔۱۹۱۷ء میں ہماری پھوپھی صاحبہ مرحومہ کو حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ نے ارشا د فر مایا کہ میوہسپتال لاہور میں داخل ہو کر مڈ وائف کا کام سیکھ لیں چنانچہ انہوں نے یہ کام سیکھا اور سرکاری ملازمت اختیار کی جس میں سے قریباً ۸ سال کا عرصہ بھیرہ میں گزارا۔ان کے دل میں ہمدردی خلق کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں بہ طفیل خدمت حضرت مسیح موعود علیہ السلام شفاء بھی رکھی ہوئی تھی۔بڑے بڑے خطر ناک کیس جو بالکل موت کے منہ میں جاچکے ہوتے تھے ان کے ہاتھوں میں شفایاب ہو جاتے۔مرحومہ کو تبلیغ کا جنون تھا۔پنجابی کے اشعار عورتوں کو سناتی رہتیں۔بہت سے لوگوں نے ان کے ذریعہ ہدایت پائی۔چنانچہ مشرقی افریقہ میں بھی میری اہلیہ سے جو اُن کی اکلوتی بیٹی ہیں تین بار ملنے آئیں اور کئی غیر احمدی عورتوں نے ان کے ذریعے ہدایت پائی۔عبادت گزار ، درودواستغفار کی پابند ،ماہمہ ، اہل بیت سے محبت کرنے والی اور سلسلہ کی ہر تحریک میں نمایاں حصہ لیتی تھیں۔قرآن مجید باترجمہ تلاوت کرتیں اور الفضل باقاعدہ پڑھا کرتیں۔حضرت مولوی شیر علی صاحب کے پہلو میں امانتاً دفن کی گئیں۔(۲) زینب بی بی صاحبہ مکرمہ محترمہ زینب بی بی صاحبہ مرحومہ (اہلیہ محترم شیخ محمدعبداللہ صاحب اوور سیر آف بر ما) نیک سیرت، خوش خصال اور احمدیت کی شیدائی خاتون تھیں۔لجنہ اماءاللہ سیالکوٹ کی لے بعد میں آپ کا جنازہ ربوہ لایا گیا۔اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔