تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 61 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 61

61 تبال ضلع گجرات صدر محتر مہ اہلیہ صاحبہ محترم مولوی محمد الدین صاحب در ولیش ڈیرہ اسمعیل خاں صوبہ سرحد سیکرٹری محترمہ رضیہ سلطانہ صاحبہ اہلیہ محترم چوہدری عبدالمنان صاحب گھسیٹ پورہ کلاں ضلع لائلپور صدر محترمه نظیر بیگم صاحبہ ۱۹۴۷ء میں وفات پانیوالی کارکنات : ۱۹۴۷ء میں لجنہ اماءاللہ کو اپنی دومخلص اور انتھک کام کرنے والی کارکنات کی وفات کا صدمہ دیکھنا پڑا ان کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے:۔(۱) محترمہ امۃ الرحمن صاحبہ نرس :۔قادیان میں محلہ دار الفتوح کی ۱۹۳۶ء سے ۱۹۴۲ء تک صدر رہیں۔آپ حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب صحابی ۳۱۳ کی ہمشیرہ اور بہت بزرگ صحابیہ تھیں۔دین کی محبت جنون کی حد تک تھی۔عاجزه (امتہ اللطیف) کی عمر تقریباً دس سال کی تھی کہ مرحومہ نے مجھ سے رپورٹیں لکھوانی شروع کیں۔میں بے ربط اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں رپورٹ مرتب کرتی تھی وہی رپورٹ لجنہ مرکزیہ میں پہنچتی اور مجلس عاملہ میں بھی سنائی جاتی۔لجنہ کے قواعد وضوابط کی رو سے سولہ سال سے کم عمر کی لڑکی لجنہ کی ممبر نہیں ہوسکتی اس لئے وہ مجلس عاملہ میں شامل نہیں ہو سکتی تھی مگر آپ نے حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ مصدر لجنہ مرکزیہ اور حضرت سیدہ اُم طاہر احمد صاحب سیکرٹری لجنہ مرکزیہ سے میرے لئے مجلس عاملہ میں بیٹھنے کی خاص اجازت حاصل کی اور اپنے ساتھ بطور سیکرٹری لگائے رکھا۔ہر کام مجھے سکھایا اور آپ ہی کی وجہ سے دین کی خدمت کا شوق اور جذ بہ مجھ میں پیدا ہوا۔آپ خدمت خلق کا بھی خاص جذبہ رکھتی تھیں۔تبلیغ کا بے حد شوق تھا۔اجلاسوں میں بڑے بڑے اچھے اچھے مضامین تلاش کر کے سُنا تیں۔اجلاسوں کے لئے باوجود ضعیف اور کمزور ہونے کے اپنے گھر کو صاف کرتیں اور جگہ بناتیں۔ہجرت سے قبل تین چار سال بہت زیادہ کمزوری کے باعث کام نہ کر سکیں۔ہجرت کا صدمہ آپ کے لئے ناقابل برداشت تھا۔آپ نے ۱۳۔اکتوبر ۱۹۴۷ء کو رتن باغ لاہور میں وفات پائی۔مرحومہ کے داماد محترم قاضی عبدالسلام صاحب بھٹی نے اپنے مضمون اے میں مرحومہ کے خصائل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ:۔ا الفضل ۱ فروری ۱۹۴۸ء