تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 43
43 محترمہ قدیر بیگم صاحبہ محترمہ حبیبہ ہاشمی صاحبہ محترمہ عائشہ خادم حسین صاحبہ محترمه مسعوده بٹ صاحبہ۔محترمہ ذکیہ بٹ صاحبہ محترمہ سرور جان صاحبہ محترمہ بلقیس صادقہ صاحبہ محترمہ خیر النساء خالدہ صاحبہ محترمہ ہمشیرہ خالد لطیف صاحب محترمہ رؤوفه بیگم صاحبہ محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ محترمه کفیلہ کوثر بیگم صاحبہ محترمہ اہلیہ صاحبہ مولوی عبدالمجید صاحب محترمہ بیگم بین صاحب - محترمہ ثریا را نجها صاحبہ اور محترمہ فاطمہ احسان الی صاحبہ۔لجنہ اماءاللہ کراچی کی جنرل سیکرٹری محترمہ صغری بیگم قدسیہ صاحبہ سے کچھ عرصہ بعد ہی خرابی صحت کی بناء پر مستعفی ہو گئیں اور ان کی جگہ محترمہ بیگم صاحبہ چوہدری شاہنواز صاحب جنرل سیکرٹری منتخب ہو گئیں اور محترمہ جمیلہ عرفانی صاحبہ نائبہ جنرل سیکرٹری۔محترمہ حمیدہ بیگم صاحبہ مرحومہ اہلیہ محترم ڈاکٹر عبدالحمید صاحب چیف میڈیکل آفیسر ریلوے لجنہ کراچی کی سرگرم اور مخلص کارکن تھیں۔پہلے چار حلقہ جات کے علاوہ پانچواں حلقہ جیکب لائن قائم کیا گیا۔حلقہ جیکب لائن میں صدر محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم شیخ عبدالحق صاحب مقرر ہوئیں۔کچھ عرصہ کے بعد جیکب لائن کی صدر کے کراچی سے جانے کے بعد محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم ڈاکٹر عبد الرحمن صاحب کا مٹی صدر حلقہ منتخب ہوئیں۔۱۹۵۰ء میں ملیر کینٹ میں حضرت سیّدہ ام ناصر احمد صاحب اور حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ نے (جو ان دنوں حضور کے ساتھ کراچی میں تشریف فرما تھیں ) لجنہ کا قیام فرمایا۔محترمہ اہلیہ صاحبہ محمد حنیف صاحب صدر اور محترمہ فہمیدہ لطیف صاحبہ کو سیکرٹری مقرر فرمایا۔محترمہ صغری بیگم قدسیہ صاحبہ اہلیہ محترم شیخ غلام حسین صاحب لدھانوی نے مخلص خادمہ دین تھیں۔دہلی میں لجنہ اماءاللہ کے قیام کے ساتھ ہی آپ نے اپنے تئیں اس سے وابستہ کر لیا اور ایک سرگرم رکن کی حیثیت سے قیام پاکستان تک لجنہ کا کام نہایت ہی اخلاص و محبت اور جانفشانی سے کیا۔آپ ۱۹۴۳ء میں لجنہ اماءاللہ دہلی کی سیکرٹری مال مقرر ہوئیں اور اس کام کو حسن و خوبی سے قیام پاکستان بلکہ کراچی میں غالباً ۱۹۵۰ء تک سرانجام دیا۔آپ کے پاس سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے متعدد خطوط خوشنودی موجود ہیں۔غالبا ۱۹۳۴ء میں نئی دہلی میں لجنہ اماءاللہ کا قیام ہوا اور آپ اس کی صدر مقرر ہوئیں۔آپ کی صدارت میں اس نے بہت ترقی کی۔تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول صفحہ ۵۲۵