تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 42
42 حلقہ حلقہ سعید منزل کے نام سے قائم کیا گیا اس میں رام سوامی کا علاقہ بھی شامل تھا اس کی صدر محترمہ خضر سلطانہ صاحبہ منتخب ہوئیں اور سیکرٹری محترمہ جمیلہ عرفانی صاحبہ مقرر ہوئیں۔۱۴۔جنوری ۱۹۴۸ ء تک آپ نے خدمات انجام دیں۔آپ کے بعد اس حلقہ کی صدر محترمہ بیگم صاحبہ چوہدری احمد جان صاحب مقرر ہوئیں نائب صدر محترمہ جمیلہ عرفانی صاحبہ اور سیکرٹری محترمہ صفیہ اللہ داد صاحبہ اور محترمہ کلثوم رحمانی صاحبہ اور سیکرٹری مال محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ مقرر ہوئیں۔ان کے علاوہ محترمہ فضیلت بیگم صاحبہ، محترمه معصومه بیگم صاحبہ محترمہ سیدہ صالحہ بانو صاحبہ اور محتر مہ ممتاز بیگم صاحبہ کے سپر دعلی الترتیب تبلیغ تربیت واصلاح تعلیم اور ناصرات کے شعبے کئے گئے۔چند ماہ کے بعد محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کراچی سے تشریف لے گئیں تو محترمہ بیگم صاحبہ محترم چوہدری بشیر احمد صاحب کے ساتھ محترمہ صاحبزادی امتہ السلام بیگم صاحبہ نا ئب صدر مقرر ہوئیں۔بیگم صاحبہ چوہدری بشیر احمد صاحب کی صدارت میں لجنہ اماءاللہ کراچی نے تیزی سے ترقی کے مراحل طے کئے۔۱۹۴۸ء سے ۱۹۵۰ء تک لیاقت آباد، گولیمار ، فیڈرل امیر یا لارنس روڈ اور ناظم آباد کے حلقے قائم ہو چکے تھے ان حلقوں میں جن احمدی خواتین نے کام کیا ان کے نام درج ذیل ہیں:۔محترمه سیده خضر سلطانہ صاحبہ مرحومہ محترم محمد یونس صاحب مرحوم کی اہلیہ تھیں جو محترم با بونذ یر احمد صاحب مرحوم امیر جماعت احمد یہ دہلی کے برادر نسبتی تھے اور ۱۹۴۷ء کے فسادات میں شہید ہو گئے تھے۔مرحومہ اپنے خاندان میں اکیلی احمدی تھیں۔لجنہ دہلی اور کراچی کی پُر جوش ممبر رہی ہیں۔دسمبر ۱۹۲۸ء میں احمدی ہو ئیں تبلیغ کا بہت شوق تھا۔کوئی اولاد نہ تھی۔جب ربوہ میں مکانات کے لئے زمین الاٹ شروع ہوئی تو مرحومہ کی درخواست پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے محلہ دار الرحمت وسطی میں برلب سڑک ایک کنال کا قطعہ عطا فرمایا جس کے ایک حصہ میں انہوں نے مکان بنوالیا۔۲۲۔جولائی ۱۹۲۴ء کو مرحومہ کی وفات ہوئی اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئی۔وفات سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے اپنا مکان وقف کرنے اور اس کے ایک حصہ میں مسجد بنوانے کی خواہش ظاہر کی۔صدرانجمن احمدیہ نے اسے منظور کر لیا۔اس مسجد کا نام مسجد خضر سلطانہ تجویز ہوا۔پہلے ایک کچا کمرہ بطور مسجد تعمیر کیا گیا جو محترم مولوی عبدالرحمن صاحب انور کے زیر اہتمام بنا۔جب اسے پختہ کرنے کا موقعہ آیا تو مرحومہ کی خواہش کا علم ہونے پر حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی نے ۱۹۲۹ء میں حضرت خلیفہ مسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد پر اس کی بنیاد رکھی۔یہ چھوٹی سی شاندار مسجد آب ریلوے سٹیشن کے سامنے موجود ہے۔