تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 425 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 425

425 ۱۹ ۲۰ ۲۱ / اکتو بر ۱۹۵۶ء کو لجنات کا سالانہ اجتماع مرکز سلسلہ ربوہ میں منعقد ہوا۔اس میں خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے از راہ کرم مستورات سے خطاب فرمایا۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے پہلے سالانہ اجتماع اور گیارھویں مجلس شوری کی مختصر رو داد پہلے دن کی کارروائی:۔مورخه ۱۹ اکتوبر ۱۹۵۶ء اجتماع کی کارروائی زیر صدارت حضرت سیّدہ ام ناصر رضی اللہ عنہا ساڑھے تین بجے دفتر لجنہ اماءاللہ کے ہال میں شروع ہوئی۔تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد عہد نامہ دہرایا گیا۔اس کے بعد حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ جنرل سکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے نمائندگان کو خوش آمدید کہا اور اس امر پر خوشی کا اظہار فرمایا کہ قلیل وقت میں اطلاع ملنے کے باوجود انہوں نے اس میں شمولیت اختیار کی۔اس کے بعد آپ نے حاضرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔آپ ان دنوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں اور یہ ثابت کر دیں کہ آپ اپنی لجنات کی صحیح نمائندگی کرسکتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمان عورتیں یہ بار اٹھا سکتی ہیں۔اسلام نے انہیں ان تمام کاموں کا اہل قرار دیا ہے اور ان کوایسی آزادی دی ہے کہ جو دنیا کی کسی قوم اور ملک نے نہیں دی۔رسول کریم علی ہے نے مسلمان عورتوں کو ہر کام کرنے کا موقع دیا ہے۔اسلام سے پہلے عورت کو برا سمجھا جاتا تھا اس پر مختلف قسم کی سختیاں کی جاتی تھیں۔لیکن اسلام نے نہ صرف یہ سختیاں دور کیں، بلکہ عورت کو بہت بلند اور باعزت مقام عطا کیا۔اب عورت کا بھی فرض ہے صلى الله کہ وہ آنحضور ﷺ کے ارشاد پر دل و جان سے عمل پیرا ہو۔رسول کریم ﷺ وفات پاگئے۔آپ کے بعد آپ کے ارشاد کے مطابق خلافت قائم ہوئی۔اب مسلمانوں پر جس طرح آنحضرت ﷺ کے ارشادات کی تعمیل ضروری تھی اسی طرح خلیفہ وقت کی ہدایات کی تعمیل بھی واجب تھی۔آنحضرت ﷺ نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی۔“ سو حضور کی اس پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث