تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 383
383 حضرت اماں جی کو یہ شرف حاصل تھا کہ تمام عورتوں میں حضرت ام المومنین کو چھوڑ کر آپ ابتداء ہی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یقین اور ایمان رکھتی تھیں ، سب سے پہلے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک اور شرف یہ عطا فر مایا کہ آپ کی بیٹی حضرت سیدہ امتہ الحئی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد زوجیت میں آئیں۔آپ کے اخلاق کا نمایاں جو ہر مہمان نوازی تھا۔قادیان میں جلسہ سالانہ کے دنوں میں مستورات کی رہائش کا انتظام آپ کے مکان پر بھی ہوتا تھا۔آپ وہاں مقیم خواتین کی ہر طرح کی ضروریات کا خیال رکھتیں۔ربوہ آنے کے بعد بھی اپنے گھر مہمان ٹھہرا تیں اور خاطر و مدارات میں خوشی محسوس کرتیں۔آپ کی مادری زبان فارسی تھی۔گو آپ کسی سکول کی تعلیم یافتہ نہ تھیں۔لیکن وقتا فوقتا سلسلہ کے ابتدائی اخباروں میں آپ کے مضامین نظر آتے ہیں۔الحکم میں حضرت عرفانی صاحب نے ایک صفحہ خواتین کے لئے مخصوص فرمایا تو حضرت اماں جی اس میں ص۔ب“ کے قلمی نام سے تربیت اولاد پر مضامین لکھتی رہیں۔اسی طرح ” احمدی خاتون میں بھی لے حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ دام ظاہتا کا ایک خط جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے الفضل میں شائع فرمایا درج ذیل کیا جاتا ہے جو حضرت اماں جی کے حضرت ام المومنین سے تعلق اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت خلیفہ اسیح الاول سے محبت پر روشنی ڈالتا ہے۔السلام علیکم۔آپ کا خط ملا۔میاں عزیز احمد صاحب کی تار سے اماں جی کی وفات کی اطلاع مل گئی تھی۔ہم سب نے یہاں سے ہمدردی کے تار بھی دے دیئے اور سب صاحبزادوں کے نام ہمدردی کا اکٹھا خط بھی لکھ دیا تھا۔دل پر اس صدمہ کا گہرا اثر ہوا ہے۔کل سے طبیعت بار بار خراب ہو رہی ہے۔بچپن کے سارے زمانے اور ان بزرگوں کے قدیم حالات کے نقشے آنکھوں میں پھر رہے ہیں۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے ہر روز صبح حضرت خلیفہ اول کا حال اور خیریت بتانے کا خاص حکم تھا۔اور حضرت مسیح موعود ہر روز پوچھتے تھے کہ مولوی صاحب کو ناشتہ احمدی خاتون جنوری ۱۹۱۳ء صفحه ۳۹ ۴۰