تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 384
384 ٹھیک ملا تھا یا نہیں۔صغری ( یعنی اماں جی ) نے کسی بات میں ستایا تو نہیں۔گھر میں کوئی شکایت تو پیدا نہیں ہوئی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود کو حضرت خلیفہ اول سے بہت محبت تھی اور ان کے آرام کا خاص خیال رہتا تھا اور اس بات کا حضرت خلیفہ اول اور اماں جی دونوں کو علم تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھ سے روزانہ پوچھتے ہیں اور میں بتاتی ہوں۔اسی بناء پر حضرت خلیفہ اول و یا با قاعدہ رپورٹ دیا کرتے تھے۔اور کبھی کبھی محبت اور بے تکلفی کے رنگ میں کچھ شکایت بھی کر دیتے تھے مگر یہ خدا کی بندی (حضرت اماں جی ) ذرہ بھر برانہیں مانتی بلکہ بعض اوقات خود ہی کہہ دیا کرتیں کہ آج مجھ سے فلاں غلطی ہوگئی ہے۔کبھی ایک دفعہ بھی میری طرف سے اس ڈیوٹی کے ادا کرنے پر بری آنکھ یا حصہ کی نظر سے نہیں دیکھا۔اسی طرح آگے پیچھے بھی بے حد محبت سے پیش آتی تھیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔حضرت اماں جان (ام المومنین ) کا اماں جی سے ہنسنا، بولنا، چھیڑنا بہت یاد آتا ہے اور میری آنکھوں کے سامنے گویا ایک تصور بن جاتا رہا ہے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد حضرت اماں جان ام المومنین نے اپنی قلبی کیفیت کا ان مختصر الفاظ میں ذکر کیا کہ دل کو چین نہیں آتا۔زندگی کا مزہ نہیں رہا اور اس وقت حضرت اماں جان نے یہ ایک شعر بھی پڑھا جس سے مراد یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد یہ پہلا صدمہ ہے اور معلوم نہیں آگے چل کر کیا کیا حالات اور کیا کیا صدمات پیش آتے ہیں۔الغرض تسبیح کا ایک ایک دانہ گر رہا ہے اور سب پرانی یادگار میں رخصت ہورہی ہیں۔انسان ایک عمر تک ہی نیا ماحول پیدا کر سکتا ہے۔اس کی اصل دلچسپیاں اوائل عمر کے عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ ہی وابستہ ہوتی ہیں۔اخلاقا ملنے کو ہم سب سے ملتے ہیں مگر اپنا خاص حلقہ جوں جوں کم ہوتا جاتا ہے زندگی کے لطف میں کمی آتی جاتی ہے۔نئی نسلوں کا اپنا ماحول اور اپنی دلچسپیاں ہیں مگر ہم جب دیکھتے ہیں کہ پرانی زنجیر کی کڑیاں ٹوٹ ٹوٹ کر گرتی جارہی ہیں تو دل بہت اداس ہونے لگتا ہے۔آپ کی صحت کے لئے برابر دعا کرتی ہوں۔خدا حافظ و ناصر ہو۔له الفضل ۱۸ را گست ۱۹۵۵ء صفحه ۳ والسلام مبارکہ کے