تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 292
292 قریباً اٹھارہ برس سے ایک یہ پیشگوئی ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصّهُرَ وَالنَّسب۔ترجمہ :۔وہ خدا سچا خدا ہے جس نے تمہاری دامادی کا تعلق ایک شریف قوم سے جو سید تھے کیا اور خود تمہاری نسب کو شریف بنایا جو فارسی خاندان اور سادات سے معجون مرتب ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں :۔چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا اس لئے اس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولا د پیدا کرے جوان نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخمریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلا وے اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہاں کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے۔چونکہ حضرت ام المومنین کی بشارت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی الہاماً فرمایا تھا کہ ایک شریف خاندان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا رشتہ ہو گا اس لئے ضروری ہے کہ آپ کے خاندانی حالات کا بھی تذکرہ کیا جائے۔آپ کا نام سیدہ نصرت جہاں بیگم تھا۔آپ دہلی میں حضرت میر ناصر نواب صاحب کے گھر میں ۱۸۶۵ء میں پیدا ہوئیں۔حضرت میر ناصر نواب صاحب دہلی کے مشہور سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ننھیال کی طرف سے آپ کے جد امجد حضرت خواجہ میر ناصر صاحب رحمہ اللہ اور حضرت خواجہ میر در دصاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نام قابل ذکر ہیں۔حضرت خواجہ میر ناصر صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ بارھویں صدی میں اپنے زمانہ کے بہت بڑے ولی مانے گئے۔آپ کے ذریعہ سے طریقہ محمدیہ کی بنیاد رکھی گئی اور آپ پر پیشگوئی کی گئی کہ یہ ایک خاص نعمت تھی جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے محفوظ رکھی تھی اس کی ابتداء تجھ پر ہوئی ۲۱ تریاق القلوب ص ۱۴۶ - ۱۴۹