تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 293 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 293

293 ہے اور انجام اس کا مہدی موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ہوگا لے چنانچہ حضرت سیدہ نصرت جہاں کے ذریعہ یہ نعمت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک پہنچی جن کی خاطر اس امانت کی حفاظت آپ کے بزرگ کرتے چلے آتے تھے۔آپ کا اصل نام نصرت جہاں بیگم تھا۔آپ کے والد بزرگوار نے آپ کا نام عائشہ بھی رکھا۔خدا تعالیٰ کی وحی میں آپ کا نام خدیجہ رکھا گیا۔آپ کے والد محترم حضرت میر ناصر نواب صاحب محکمہ نہر میں ملازم تھے اور بسلسلہ ملازمت پنجاب میں بھی رہے۔ضلع گورداسپور میں کئی مقامات پر متعین رہے۔کئی بار قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں رہنے کا موقع ملا جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نیکی اور تقویٰ کا آپ پر خاص اثر تھا۔اسی کے زیر اثر آپ نے اپنی بیٹی کے رشتے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کی درخواست کرتے ہوئے لکھا کہ:۔دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے نیک اور صالح داماد عطا کرے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی شادی کی تحریکیں ہو رہی تھیں اور خدا تعالیٰ خود عرش سے فرمارہا تھا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصِّهْرَ وَ النَّسبَ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود اپنی طرف سے رشتہ کی تحریک کر دی۔آپس میں خط و کتابت شروع ہوئی اور رشتہ منظور کر لیا گیا۔حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کے لئے نیک اور متقی خاوند کی خواہش کی حضرت میر ناصر نواب صاحب کو کتنی تڑپ تھی اس کا ثبوت مندرجہ ذیل واقعہ سے ملتا ہے۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے ایک دفعہ حضرت میر صاحب سے سوال کیا حضرت! یہ مقام جو آپ کو حاصل ہوا اس میں کیا راز ہے۔وہ کونسی بات تھی جو آپ کو اس جگہ پر لے آئی ؟“ حضرت میر صاحب کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے اور بھرائی ہوئی آواز میں فرمایا :۔”میرے ہاں جب یہ بلند اقبال لڑکی پیدا ہوئی اس وقت میرا دل مرغ مذبوح کی طرح تڑپا اور میں پانی کی طرح بہہ کر آستانہ الہی پر گر گیا۔میں نے اس وقت بہت درد اور سوز سے دعائیں کیں لے میخانه در رص ۱۲۶ مولفه خواجه سید ناصر نذیرصاحبه فراق دہلوی مطبوعہ حیدر برنی پریس و یکی طبع اول مارچ ۱۹۱۰ء)