تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 152
152 و, دوسری تحریک مسجد ہالینڈ کے لئے چندہ کی ہے۔کہتے ہیں عورتوں کے پاس پیسہ نہیں ہوتا لیکن شاید ان کا دل بڑا ہوتا ہے۔مردوں نے ڈیڑھ لاکھ روپیدا کٹھا کرنا ہے اس وقت تک صرف پونے بارہ ہزار کے وعدے ہوئے ہیں۔اور عورتوں نے ساٹھ ہزار روپیہ جمع کرنا ہے مگر اس وقت تک ان کے پونے سترہ ہزار کے وعدے ہیں۔گویا عورتوں کے وعدے مردوں سے ڈیڑھ گنا ہیں۔میرے پاس جو چندہ کی رپورٹیں آتی ہیں اُن میں دس میں سے نو جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں عورتوں کا چندہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔بہر حال ہالینڈ کو بھی یہ فوقیت حاصل ہے کہ انڈونیشیا آزاد ہو گیا ہے۔پس اب ان دونوں ملکوں کی آپس میں دوستی کے تعلقات بڑھتے جائینگے اور ڈچ کامن ویلتھ میں انڈونیشیا کے شامل ہونے کی وجہ سے چونکہ مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہوگی اس لئے ڈچ مسلمانوں کی طرف مائل ہوں گے اور ممکن ہے کہ ہالینڈ اسلام کا مرکز بن جائے اِس لئے وہاں کی مسجد بھی ایک اہم مسجد ہے۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس چیز کا خیال جانے دیں کہ ان پر کتنے بوجھ ہیں وہ ہمیشہ بوجھ کے نیچے رہیں گے۔دُنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں رہا جس پر کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔جس انسان پر کرئی بوجھ نہیں ہوتا وہ خود بوجھ بنالیا کرتا ہے۔مثلاً امیر لوگ ہیں وہ یہی بوجھ بنا لیتے ہیں کہ کہیں ڈا کہ نہ پڑ جائے اور وہ لٹ نہ جائیں۔پس بوجھ سے مت ڈرو بلکہ یہ دیکھو کہ تمہاری زندگیوں میں کتنے بڑے کام سرانجام پا جاتے ہیں۔تم اپنی اس مختصر زندگی میں اور پھر اس سے بھی زیادہ مختصر دولت اور اقتصاد میں اگر کوئی عظیم الشان کام کر جاتے ہو تو تمہاری زندگی نا کام زندگی نہیں ہوتی بلکہ تمہاری زندگی کامیاب زندگی ہوتی ہے جس پر بڑے بڑے لوگ جن کو بظاہر دولت اور اقتصاد حاصل ہوتا ہے حسد کرتے ہیں یا رشک کرتے ہیں اور یا نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔حضور کے اس خطاب سے ظاہر ہے کہ مسجد کی تحریک پر ابھی صرف دو ماہ گزرے تھے کہ پونے سترہ ہزار روپے کے وعدے آچکے تھے۔لاہور کی لجنہ اماءاللہ نے ۲۱ مئی کو مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ میں مسجد ہالینڈ کے چندہ کی تحریک کی غرض سے ایک خاص اجتماع منعقد کیا ہے۔ا الفضل ۱۸ مئی ۱۹۵۰ء صفحه م الفضل ۲۰ مئی ۱۹۵۰ء صفحه ۷