تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 150
150 کے اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں عیسائیت سے ہوا اور ہر میدان میں عیسائیت کو پسپا ہونا پڑا یہ مقابلہ تلواروں یا ظاہری آلات حرب سے نہیں ہوا بلکہ دلائل و براہین کے رُوحانی ہتھیاروں سے ہوا جن سے اسلام کو زندہ مذہب، آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زندہ نبی اور قرآن مجید کو زندہ کتاب ثابت کیا گیا۔اللہ تعالی کا وعدہ تھا کہ آپ کو خود ایسے سامان عطا کرتا چلا جائے گا جو اس غلبہ کے دن کو قریب لانے کا موجب ہوں گے۔اللہ تعالی نے آپ کو دیگر نشانات کے ساتھ ساتھ ایک فعال اور قربانی دینے والی جماعت بھی عطا کی جس میں مرد بھی ہیں عورتیں بھی اور بچے بھی انہوں نے ہر قربانی کے موقع پر اپنی جان مال سب کچھ اسلام کی خاطر قربان کر دیا۔انہی قربانی دینے والی خواتین میں ان مستورات کا نام بھی سر فہرست آتا ہے جنہوں نے اپنے آقا کے ارشاد پر جو کچھ ان کے پاس تھا پھر ایک بار رضائے الہی کی خاطر پیش کر دیا جنہیں اللہ تعالی نے حضرت مصلح موعود کی قیادت میں ایک بار پھر انہیں یہ تو فیق عطا فرمائی کہ وہ کفرستان میں نعرۂ توحید بلند کرنے کے لئے خانہ خدا کی تعمیر کر سکیں۔اس مسجد ( جس کا نام بعد میں مسجد مبارک تجویز کیا گیا) کی تحریک حضرت مصلح موعودؓ کی طرف سے ۱۹۵۰ء میں ہوئی۔سب سے پہلے وکیل المال ثانی کی طرف سے اس کا اعلان مندرجہ ذیل الفاظ میں الفضل میں کیا گیا:۔مَنْ بَنِى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ خدا کا گھر بنانے والے کے لئے اللہ تعالیٰ جنت میں گھر بنائے گا۔احمدی بہنوں کی خدمت میں احباب کے لئے یہ اطلاع مسرت کا باعث ہوگی کہ واشنگٹن (امریکہ ) اور ہیگ (ہالینڈ ) میں مساجد اور مشن ہاؤس کی تعمیر کے لئے زمین خرید لی گئی ہے۔ہر دو جگہوں پر خانہ خدا کی تعمیر انشاء اللہ جلد شروع ہو جائے گی۔سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی کا منشاء ہے کہ جس طرح لندن مسجد کی تعمیر میں احمدی مستورات نے حصہ لیا تھا اسی طرح یہ مساجد بھی صرف احمدی بہنوں کی قربانی سے تعمیر کی جائیں۔اس لئے حضور کے ارشاد کے ماتحت اعلان کیا جاتا ہے کہ احمدی بہنیں ان ممالک میں مسجد