تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 121
121 ہدایات کے مطابق لجنہ ربوہ کا انتظام ۱۹۵۳ء میں لجنہ مرکزیہ سے الگ کر دیا گیا اور محترمہ صاحبزادی سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ لجنہ ربوہ کی صدر منتخب ہوئیں جو اب تک (دسمبر ۱۹۷۱ء) اِس عہدہ پر فائز چلی آرہی ہیں۔لجنہ ربوہ کو منظم فعال اور کارکردگی کے لحاظ سے ممتاز مقام تک پہنچانے میں آپ کا خاص حصہ ہے۔اپریل ۱۹۴۹ء تا اپریل ۱۹۵۳ء تک جن ممبرات کو مختلف عہدوں پر کام کرنے کی توفیق ملی ان کے اسماء درج ذیل ہیں:۔۱- محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ بیگم محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ۲ محترمہ صاحبزادی امتہ النصیر بیگم صاحبہ محترمہ صاحبزادی امته الرشید بیگم صاحبه ۴ محتر مد رقیه بیگم صاحبہ بنت حضرت مفتی محمد صادق صاحب ۵ محترمہ بھا بھی زینب صاحبہ مرحومہ محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت سید عزیز اللہ شاہ صاحب محترمه عزیزه رضیہ صاحبہ مرحومہ اہلیہ محترم مرزا گل محمد صاحب ۹ محترمہ زینب صاحبہ اہلیہ عبدالواحد صاحب ۱۰- محتر مدخدیجه بیگم صاحب الیه محترم مولوی فضل دین صاحب وکیل ۱۱ محترمہ اہلیہ صاحبہ محترم چوہدری ابوالہاشم خان صاحب ۱۲ محتر مہ عابدہ صاحبہ مرحومہ بنت ۱۳- محترمہ فاطمہ صدیقہ صاحبہ اہلیہ محترم شیخ کرم الدین صاحب آف کینیڈا ۱۴- محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم مولوی صالح محمد صاحب ۱۵- محترمہ ثریا بیگم صاحبہ اہلیہ محترم حکیم فضل الرحمن صاحب ۱۶۔محترمہ سازه بیگم صاحبہ مرحومہ اہلیہ محترم مولوی چراغ الدین صاحب ۱۷- محترمہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم حافظ قدرت اللہ صاحب ۱۸- محترمہ عطیہ بیگم صاحبہ بنت حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی