تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 112
112 ۱۹۳۵ء میں پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے رائے دہندگان کی فہرستیں بنائے جانے کا سرکاری طور پر اعلان ہوا۔مستورات کے ووٹر بنے کی ایک شرط خواندگی بھی تھی۔اس سلسلہ میں لجنہ اماءاللہ قادیان اور اردگرد کے دیہات کو خواندہ بنانے کی جد وجہد شروع کی۔حضرت سیدہ اُمم طاہر صاحبہ کے ساتھ محترمہ امتہ السلام صاحبہ نے اس کام میں حصہ لیا۔منگل کا حلقہ آپ کے سپر د تھا۔حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ آپ کے کام سے بہت خوش تھیں۔رجسٹروں میں رپورٹیں درج کروانے کا کام آپ سے کرواتیں تھیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی کئی تقاریر کے نوٹس آپ نے لئے۔اسی طرح کئی جلسہ سالانہ کی رپورٹیں مرتب کر کے شائع کروائیں۔شادی کے بعد آپ قادیان سے باہر چلی گئیں اور کام کا موقع نہ ملا۔پھر ۱۹۵۳ء میں جیکب لائنز کراچی میں کام کیا اور ۱۹۶۸ء میں ربوہ میں آکر ڈیڑھ دو سال محلہ دار الرحمت غربی الف میں بطور سیکرٹری تعلیم کا م کیا۔باوجود یکہ نئی جگہ اور بے سروسامانی تھی۔خدا تعالی کے فضل سے ہر انتظام تسلّی بخش رہا۔چنانچہ جلسہ سالانہ کی رپورٹ میں شائع ہوا کہ جلسہ سالانہ کے انتظامات کے سلسلہ میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مستورات سرگرم عمل تھیں۔بہت سی دیگر مہمان خواتین بھی ان کی نگرانی میں شب و روز منہمک رہیں۔خواتین کا انتظام انتہائی اچھا تھا۔حضرت امیر المومنین نے بھی اس کی تعریف فرمائی سے لجنہ اماءاللہ لاہور پر اظہار خوشنودی: حضور نے لجنہ اماءاللہ لاہور کے کام پر اظہار خوشنودی فرماتے ہوئے فرمایا:۔۱۹۴۷ء میں جب ہم لاہور آئے اس وقت یہاں عورتوں میں انتہائی بے حسی پائی جاتی تھی۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی طرف سے مستورات کو بار بار توجہ دلائی گئی لیکن ایسی عورتیں بہت کم تھیں جو لجنہ کے کاموں میں حصہ لیتی تھیں۔آہستہ آہستہ عورتوں کے اندر بیداری پیدا ہونی شروع ہوئی۔اور اس جلسہ پر گولا ہور سے جانے والی عورتوں میں ایک حصہ قادیان سے آئی ہوئی عورتوں کا بھی تھا لیکن ان میں سے اکثر عورتیں لاہور کی تھیں جو نہ صرف کثیر تعداد میں جلسہ پر گئیں بلکہ چندہ کر کے بہت سا سامان ا الفضل ۲۳۔اپریل ۱۹۴۹ صفحہ ۲ کالم نمبرا