تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 4
4 آج ہر احمدی سمجھ لے کہ اب احمدیت پر ایک نیا دور آیا ہے ہجرت کے موقعہ پر جماعت کو انتہائی کٹھن ، صبر آزما اور مصائب و آلام سے پڑ تاریک گھڑیوں میں سے گزرنا پڑا اور اسی وجہ سے حضور نے یہ محسوس کیا کہ:۔لگانا ہے۔”میرے سامنے ایک درخت کو اُکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا نہیں بلکہ ایک باغ کو اُکھیڑ کر دوسری جگہ لمصلہ مصائب و مشکلات کے یہ انتہائی تاریک ایام جماعت احمدیہ نے حضرت سید نا اصلح الموعود کی عدیم المثال قیادت میں جس جرات، دلیری اور فدائیت ، صبر وتحل اور نظم وضبط کے ساتھ گزارے اس پر احمدی خواتین کا بھی خاص حصہ تھا انہوں نے بھی اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس موقعہ پر مومنانہ کردار کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔الحمد للہ علی ذالک۔قادیان کے خونچکاں واقعات اور وہاں سے ہجرت کے حالات ایسے المناک تھے کہ غم واندوہ کے باعث جذبات پر قابو پانا مشکل ہورہا تھا اور صبر وتحمل کا دامن چھوٹ چھوٹ جاتا تھا مگر ایسے حالات میں حضرت مصلح موعودؓ نے احمدی خواتین کے سامنے اپنی اولوالعزمی کا شاندار عملی نمونہ پیش کر کے انہیں صبر و تحمل اور عزم واستقلال کا جو سبق دیا وہ اس قابل ہے کہ احمدی خواتین ہمیشہ اسے اپنے سامنے رکھیں۔یہ نمونہ حضور ہی کے مبارک الفاظ میں درج ذیل ہے۔حضور فرماتے ہیں۔قادیان کے چھوٹ جانے کا صدمہ لازماً طبیعیتوں پر ہوا ہے۔میری طبیعت پر بھی اس صدمہ کا اثر ہے لیکن میں نے جب قادیان چھوڑا تو یہ عہد کر لیا تھا کہ میں اس کا غم نہیں کرونگا۔۔۔میری ایک لڑکی سے کے ابھی بچہ پیدا ہوا تھا۔وہ میرے پاس رخصت ہونے کے لئے آئی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا خاموش رہو یہ وقت رونے کا نہیں بلکہ یہ وقت کام کا ہے۔چنانچہ میں نے اس عہد کو ختی سے نبھایا ہے بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا تھا میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گامگر میں سمجھتا ہوں کہ جب میں ایک عزم کر چکا ہوں تو میں اس عزم کو آنسوؤں کے ساتھ کیوں مشتبہ کر دوں۔ہم اپنے الفضل ۱۸ اکتوبر ۱۹۴۷ء صفحہ۲ کالم ۲، ۳ و تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحیم مؤلفہ مکرم مولوی دوست محمد صاحب شاہد الفضل ۳۱ جولائی ۱۹۴۹ء صفحہ ۶ کالم ۲۱ و تاریخ احمدیت جلد نمبر۱۱ صفحه ی۲ سے صاحبزادی امتہ الحکیم بیگم صاحبہ بیگم سید داؤ د مظفر احمد شاہ صاحب جو حضرت سیدہ ام طاہر رضی اللہ عنہا کے بطن سے ہیں۔