تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 527
527 تعداد میں رہ گئی ہیں ان سے استفادہ کر لیں اور ان کو اپنے اجلاسوں میں بلائیں اور ذکر حبیب کے عنوان پر چشم دید واقعات سنیں کیونکہ روحانیت پیدا کرنے اور دلوں کا غبار اور زنگ دور کرنے کے لئے صحبت صالحین ضروری چیز ہے۔پس صحابیات کو اپنی مجالس میں بلائیے۔اپنے ہر اجلاس میں یا ہر مہینے صحابیہ کی تقریر رکھیں اور ان کے چشم دید واقعات قلم بند کر لیں اور ان کو یادر کھنے کی کوشش کریں۔اگر اس وقت آپ نے سستی کی اور اس سنہری موقعہ سے فائدہ نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں آپ سے مطالبہ کریں گی کہ آپ نے نیک اور بزرگ لوگوں سے ہمارے لئے کیا حاصل کیا۔تو یہ طریق اختیار کرنے سے نہ صرف آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات کا علم ہوگا بلکہ آپ اپنی اولادوں کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچ جائیں گی۔اس سلسلہ میں خاص طور پر سکول اور کالج کی ہیڈ بھی مخاطب ہیں کیونکہ کتابوں سے علم سیکھنا اتنا مفید نہیں ہوتا جتنا چشم دید واقعات اور کانوں سنے حالات سے ہوتا ہے۔ماؤں کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنی اولاد کی اس رنگ میں تربیت کریں کہ ان کے بچے اس لئے احمدی نہ ہوں کہ ان کے ماں باپ احمدی تھے بلکہ وہ دلائل احمدیت کے خود قائل ہو کر مانیں۔ہماری صحابیات گاہے بگا ہے بازخواں ایں قصہ پارینہ کے مطابق قصہ پارینہ ہی شمار ہونے لگی ہیں۔اس لئے ان کی قدر کریں اور ان سے استفادہ کریں۔اب میں آپ کے سامنے بیان کروں گی کہ لجنہ اماءاللہ مرکز یہ کن شعبہ جات کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ہمارا پہلا شعبہ خدمت خلق کا ہے۔خدمت خلق ہر انسان پر واجب ہے۔اس کے لئے کوئی شرط نہیں کہ اگر آپ سے کہا جائے کہ خدمت خلق کرو تو آپ کر لیں اور اگر نہ کہا جائے تو نہ کریں۔خدمت خلق کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرنا چاہیئے۔توفیق خود بخود انسان کو مل جاتی ہے۔راستہ سے کانٹا اٹھا دینے کو بھی اسلام خدمت خلق قرار دیتا ہے لیکن سب سے زیادہ جامع تعلیم جو خدمت خلق کی اسلام نے دی ہے وہ یہ ہے کہ سچا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھوں اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں۔پس کوشش کرنی چاہیئے کہ آپ کے ہاتھوں اور زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔عورتوں میں غیبت کا مرض اس شدت سے پیدا ہو گیا ہے کہ اگر وہ اس کو برائی جانتیں تو وہ کبھی اس بُری عادت کو اختیار نہ کرتیں۔قرآن کریم نے غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف