تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 511 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 511

511 ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں تو اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔مگر میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایک ان پڑھ عورت آئی اور کہنے لگی کہ حضور میرا بیٹا عیسائی ہو گیا ہے آپ دعا کریں کہ وہ پھر مسلمان ہو جائے آپ نے فرمایا تم اسے میرے پاس بھیجا کرو کہ وہ خدا کی باتیں سنا کرے۔اس لڑکے کوسل کی بیماری تھی اور اس کی والدہ اسے قادیان میں حضرت خلیفہ اسیح اول کے پاس علاج کروانے لائی ہوئی تھی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے نصیحت کرتے رہے اور اسلام کی باتیں سمجھاتے رہے۔لیکن عیسائیت اس کے اندر اتنی راسخ ہو چکی تھی کہ جب آپ کی باتوں کا اس کے دل پر اثر ہونے لگا تو اس نے خیال کیا کہ میں کہیں مسلمان ہی نہ جاؤں ایک رات وہ ماں کو غافل پا کر بٹالہ کی طرف بھاگ گیا جہاں عیسائیوں کا مشن تھا۔جب اس کی ماں کو پتہ لگا تو وہ راتوں رات پیدل بٹالہ گئی اور اسے پکڑ کر قادیان واپس لائی۔مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ عورت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں پر گر جاتی تھی اور کہتی تھی مجھے اپنا بیٹا پیارا نہیں، مجھے اسلام پیارا ہے۔میرا یہ اکلوتا بیٹا ہے مگر میری خواہش یہ ہے کہ ایک دفعہ مسلمان ہو جائے پھر بے شک مرجائے۔مجھے کوئی افسوس نہیں ہو گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس کی یہ التجا قبول کی اور وہ لڑکا مسلمان ہو گیا اور اسلام لانے کے چند دن بعد مر گیا۔تو بعض عورتیں بعض مردوں سے بھی زیادہ اسلام میں پکی ہوتی ہیں۔مرد بعض اوقات کمزوری دکھا جاتے ہیں مگر عورتوں میں بڑی ہمت ہوتی ہے۔افریقہ سے ایک عورت آئی۔وہ ۳۵ سال کے بعد وطن واپس آئی تھی۔وہیں اس کا خاوند فوت ہو گیا تھا۔واپس آئی تو اس نے مجھے بتایا کہ میری یہاں ایک بہن ہے۔اس نے کہا کہ میری لڑکیاں ہیں ان سے اپنے بیٹوں کی شادی کر دو۔میں نے کہا۔ان کولٹر پچر دو تا کہ وہ اس کا مطالعہ کریں اور انہیں احمدیت سے واقفیت ہو جائے تو پھر بے شک شادی کر دینا۔اس پر اس نے کہا۔اگر غیر احمدی لڑکی سے شادی کرنا درست نہیں تو میں انہیں چھوڑ دیتی ہوں۔مجھے ان کو چھوڑ دینا منظور ہے۔حالانکہ وہ ۳۵ سال کے بعد واپس آئی تھی اور اپنی بہن سے ملی تھی۔میں نے کہا تم جواب نہ دو انہیں لٹریچر دو اور کہو وہ اس کا مطالعہ کریں۔اگر تمہاری اور تمہاری بیٹیوں کی سمجھ میں آجائے اور وہ احمدی ہو جائیں تو میں اپنے لڑکوں کی شادی تمہاری بیٹیوں سے کر دوں گی۔ور نہ نہیں کروں گی۔اس پر اس نے کہا میں اسی طرح کر لیتی ہوں۔لیکن کئی مرد بڑی ضد کرتے ہیں اور