تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 41
41 بیگم صاحبہ اہلیہ محترم ڈاکٹر محمد حسین صاحب نے یہاں لجنہ اماءاللہ کی تنظیم قائم کی۔لجنہ کے اجلاس پندرہ روزہ ہوتے تھے۔ممبرات کی تعداد پچیس اور تمیں کے درمیان تھی۔محترمہ بیگم صاحبہ محترم ڈاکٹر محمدحسین صاحب کے ساتھ محترمہ امتہ النصیر صاحبہ اہلیہ محترم چوہدری احمد جان صاحب ، محترمہ عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم عیسی خان صاحب اور محترمہ بلقیس خانم صاحبہ بنت محترم حاجی عبدالکریم صاحب عُہدہ داران شامل تھیں۔قیام پاکستان کے وقت محتر مہ امتہ النصیر صاحبہ اہلیہ محترم چوہدری احمد جان صاحب لجنہ اماءاللہ کراچی کی صدر تھیں۔۱۹۴۷ء میں جب ملک تقسیم ہوا تو ہندوستان کے مختلف علاقوں سے احمدی بھی ہجرت کر کے کراچی پہنچے۔ان میں دہلی کے تمام سرکاری ملازمین بھی تھے اور لجنہ اماءاللہ دہلی کی عہدہ داران بھی تھیں۔تمام لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان آئے تھے لیکن احمدیت کی برکت سے نظم وضبط کی جو عادت احمدیوں میں راسخ ہو چکی تھی اسی کے تحت لجنہ اماءاللہ دہلی کی صدر محتر مہ احمدہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم چوہدری بشیر احمد صاحب نے کراچی پہنچ کر فور الجنہ کے متعلق معلومات حاصل کرنا شروع کیں۔صدر لجنہ اماءاللہ کراچی سے ملیں اور اجلاسوں میں شرکت کی اور محترمہ امتہ النصیر صاحبہ بیگم چوہدری احمد جان صاحب صدر لجنہ اماءاللہ کراچی نے خواہش ظاہر کی کہ اب کراچی میں احمدی خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے اس لئے لجنہ اماءاللہ کی تنظیم نئے سرے سے کی جائے۔چنانچہ ۷ استمبر ۱۹۴۷ء کو ایک جلسہ مکرمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کی زیر صدارت محترمہ بیگم صاحبہ چوہدری بشیر احمد صاحب کی کوٹھی پر ہوا اس میں نئے انتخابات ہوئے۔محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کو صدر منتخب کیا گیا۔محترمہ بیگم صاحبہ محترم چوہدری بشیر احمد صاحب نائب صدر مقرر ہوئیں۔محترمہ صغریٰ بیگم قدسیہ صاحبہ سیکرٹری اور سیکرٹری مال مقرر ہوئیں۔محتر مداستانی میمونہ صوفیہ صاحبہ چونکہ عارضی طور پر کراچی میں مقیم تھیں اس لئے ان کی نگرانی میں عملاً کام محترمہ بیگم صاحبہ محترم چوہدری بشیر احمد صاحب نے ہی کیا۔اس طرح چند ماہ لجنہ کراچی نے استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کی نگرانی میں کام کیا اور محترمہ استانی جی نے نہایت تندہی اور شفقت سے لجنہ کراچی کی تربیت اور راہنمائی فرمائی۔جب لجنہ اماءاللہ کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا تو اس میں حاضری پچھتر ۷۵ ممبرات پر مشتمل تھی۔یہ حلقہ سولجر بازار کا حلقہ کہلاتا تھا اور یہی لجنہ کراچی کا مرکزی حلقہ تھا بعد میں اس حلقہ کا نام حلقہ جیکب لائنز ہو گیا لجنہ کراچی کا دوسرا لے وفات ۴/اکتوبر ۱۹۷۱ء