تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 474
474 مولوی صدیق صاحب امرتسری کی زیر صدارت دن بھر جاری رہا۔صدر صاحبہ، امیر صاحب محترم ، پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ بو اور مسٹر علی صاحب کے خطاب کے بعد چندہ تحریک جدید اور مسجد ہالینڈ کے چندہ کی اپیل کی جس پر بہت سی بہنوں نے لبیک کہا۔اس جلسہ میں ناصرات الاحمدیہ نے بھی نمایاں حصہ لیا۔ڈچ گی آنا میں لجنہ کا قیام:۔۱۹۵۷ء میں ڈچ گی آنا میں لجنہ اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔جس کے ہفتہ وار اجلاس با قاعدہ ہونے لگے۔لجنہ اماءاللہ کی صدر نصیران حسینی صاحبہ جماعت کے سکول چلانے میں بہت کوشش کرتی رہیں ہے سیرالیون میں لجنہ اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ کا احیاء:۔اہلیہ صاحبہ مولوی محمد صدیق کی آمد پر ان کے خیر مقدم کے لئے جلسہ کیا گیا۔ایڈریس کے جواب میں انہوں نے لجنہ اماءاللہ کی تاریخ اور اس کی غرض وغایت سے آگاہ کر کے لجنہ کے قیام کی تحریک کی اور اس طرح بو میں لجنہ کا احیاء ہوا۔اور موضع لیو دوما میں بھی لجنہ کی ایک برانچ قائم ہوئی۔مئی ۱۹۵۷ء میں ان کی زیر نگرانی لجنہ کے باقاعدہ اجلاس شروع شروع ہوئے جن میں لجنہ کی لوکل عہدہ داران کے علاوہ محترمہ امتہ القیوم صاحبہ خود بھی با قاعدہ حسب موقع تربیتی اور تنظیمی لیکچر دیتی رہیں۔نیز ہر ہفتہ جماعت کے مرد عہدہ داروں میں سے کوئی نہ کوئی عورتوں سے خطاب کرتے رہے۔محترمہ موصوفہ نے یہ بھی تحریک کی کہ احمدی بہنیں بو میں آکر دینی ٹریننگ حاصل کریں۔چنانچہ ایک احمدی بہن میڈم یا نا بو سے ۳۶ میل کے فاصلہ سے یہاں آکر دو ہفتہ کی ٹریننگ لیتی رہیں۔لجنہ کے علاوہ پانچ سے پندرہ سال کی عمر کی احمدی بچیوں کی تربیت کے لئے ناصرات الاحمدیہ کا قیام بھی عمل میں آیا اور ان کے بھی ہفتہ وار اجلاس ہوتے رہے۔سے الفضل ۱۳ مارچ ۱۹۵۸ء صفحه ۴ مصباح اکتوبر ۱۹۵۷ء صفحه ۳۲-۳۷ الفضل ۱۴ مئی ۱۹۵۷ء صفحه ۵